پاکستان: 71 سال پرانے خاندانی تنازعہ کو سپریم کورٹ نے کیا حل، شرعی اعتبار سے وراثت میں بیٹیوں کو دیا حق

جسٹس شاہد نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’وراثت کا حق خاندان کے مرد اراکین کی خوشی کے لیے دیا جانے والا کوئی تحفہ نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی ایسی رعایت ہے جو رسم و رواج، سہولت یا خاندانی مصلحت پر منحصر ہو۔‘‘

پاکستانی سپریم کورٹ
i

پاکستانی سپریم کورٹ نے جمعہ (26 جون) کو ایک 71 سال پرانے خاندانی تنازعہ کو حل کرتے ہوئے ایک تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ وراثت ایک شرعی اور قانونی حق ہے۔ اگر کسی خاندان میں اس کے سربراہ کی موت ہو جاتی ہے تو اس کی وراثت خاندان کے مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی مل جاتی ہے۔ اسے کسی بھی باہمی معاہدے، معاشرتی دباؤ، ریکارڈ میں جعلی اندراج یا پھر کسی بھی قسم کی چالبازی سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے اس معاملے میں 26 جنوری 2017 کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو خارج کر دیا۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وراثت کا حق خاندان کے مرد اراکین کی خوشی کے لیے دیا جانے والا کوئی تحفہ نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی ایسی رعایت ہے جو رسم و رواج، سہولت یا خاندانی مصلحت پر منحصر ہو۔ یہ تنازعہ تب شروع ہوا جب 1955 میں ایک جائیداد کے مالک روشن کی موت ہو گئی۔ ان کے قانونی وارثوں کے حق میں 4 اپریل 1955 کو وراثت میوٹیشن نمبر 74 درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسی روز میوٹیشن نمبر 75 بھی درج کیا گیا، جس میں یہ ظاہر کیا گیا کہ مرحوم کی بیٹیوں نے مبینہ طور پر اپنے والد سے وراثت میں ملنے والی جائیداد ’گفٹ ڈیڈ‘ کی بنیاد پر اپنے دو بھائیوں کے نام منتقل کر دی۔


اس معاملے میں عرضی گزاروں کی طرف سے کہا گیا کہ ان کی طرف سے ’گفٹ ڈیڈ‘ کے طور پر ایسا کوئی تحفہ اپنے وارثوں کو نہیں دیا گیا تھا۔ میوٹیشن نمبر 75 کو خواتین وارثوں کو ان کے قانونی حصے سے محروم رکھنے کے لیے منظوری دی گئی تھی۔ جائیداد پر قبضہ کرنے کے لیے متوفی کے بیٹوں اور ان کے جانشینوں نے اسے ایکسچینج میوٹیشن اور گفٹ ڈیڈ کے ذریعہ خواتین وارثوں کے حصے کی جائیداد کو بھی دھوکے سے اپنے حق میں منتقل کرا لیا تھا۔ عرضی گزاروں یعنی متوفی کی بیٹیوں کی طرف سے میوٹیشن نمبر 75 کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے مقدمہ داخل کیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ کی طرف سے اس مقدمہ کو خارج کر دیا گیا تھا۔ پھر اپیل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

حالانکہ سپریم کورٹ کے 2 ججوں کی بنچ نے عرضی گزاروں کی اپیل کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ قانون خواتین وارثوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کے حق میں ہے۔ اس لیے میوٹیشن نمبر 75 کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ وراثت کے نافذ العمل قانون کے تحت روشن کی جائیداد میں ان کی بیٹیاں بھی حصے کی حقدار تھیں۔


سپریم کورٹ نے ریونیو افسران کو ریونیو ریکارڈ درست کرنے، قانون کے حساب سے وارثوں کے حصوں کو طے کرنے اور پھر انہیں الگ کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ اس معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ ایسے تنازعات سے نمٹنے والی عدالتوں اور ریونیو افسران کو یہ ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے کہ قانون خواتین کی وراثت کے حقوق کو کم کرنے کے بجائے ان کا تحفظ کرنے کے حق میں ہے۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے یہ بھی کہا کہ ایسا کوئی بھی مقدمہ جس میں خاتون وارث کو وراثت سے باہر رکھا گیا ہے، اس کی انتہائی احتیاط سے عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وراثت کا قانون اسلامی قوانین میں ایک خاص جگہ رکھتا ہے۔ اللہ کے دیے ہوئے حقوق کو نہ تو کمزور کیا جائے اور نہ ہی ان سے انکار کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔