پاکستان: کوئلہ کان میں زوردار دھماکہ، 32 مزدوروں کی موت، 10 افراد اب بھی ملبہ میں پھنسے
پاکستان کی کوئلہ کان کنی صنعت میں جان لیوا حادثات عام ہیں۔ خصوصاً بلوچستان میں، جہاں کئی کانوں میں ہوا کی آمد و رفت کا مناسب انتظام، گیس کی نگرانی کا نظام اور حفاظت کے دیگر بنیادی انتظامات موجود نہیں۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان واقع ایک کوئلے کی کان میں جمعرات کو ہونے والے زوردار دھماکہ میں کم از کم 32 مزدور ہلاک ہو گئے، جبکہ 10 دیگر مزدور ملبے میں اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ قبل میں 18 مزدوروں کی ہلاکت سے متعلق خبر جاری کی گئی تھی، لیکن جمعہ کے روز حکام نے تازہ جانکاری میں بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 32 ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق پھنسے ہوئے مزدوروں کی حالت تشویش ناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائی جاری ہے۔ سرکاری کان انسپکٹر غنی بلوچ نے بتایا کہ بلوچستان کی راجدھانی کوئٹہ کے مضافاتی علاقے میں واقع کان میں میتھین گیس جمع ہونے کی وجہ سے یہ دھماکہ ہوا۔
حکام اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ اس جان لیوا دھماکہ کے چند گھنٹوں بعد 7 مزدوروں کی لاشیں برآمد کی گئیں اور بعد میں امدادی کارکنوں کو مزید 11 لاشیں ملیں۔ ریسکیو مہم آگے بڑھنے کے بعد ہلاکتوں کی یہ تعداد 18، اور پھر 32 تک پہنچ گئی۔ غنی بلوچ نے بتایا کہ امدادی کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ پھنسے ہوئے تمام مزدوروں کا پتہ نہیں چل جاتا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ حکام کا خیال ہے مرنے والوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
غنی بلوچ نے کہا کہ میتھین گیس کے دھماکوں کے بعد کسی کے زندہ ملنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں کیونکہ آکسیجن کی سطح صفر ہو جاتی ہے، اور امدادی کارکن بھی کان کے اندر احتیاط سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ بلوچ کے مطابق حکام اب تک نکالی جا چکی لاشوں کو تدفین کے لیے ان کے اہل خانہ کے حوالے کر رہے ہیں۔ جو مزدور اب بھی ملبہ میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کے رشتہ دار بے چینی سے خبر کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس درمیان بلوچستان کے کان اور معدنیات کے وزیر شعیب نوشروانی نے کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ امدادی ٹیمیں انتہائی مشکل حالات میں اپنا کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے وعدہ بھی کیا کہ صوبائی حکومت جاری امدادی کارروائی میں پوری طاقت لگا دے گی۔ نوشروانی نے متاثرین کے رشتہ داروں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دھماکہ میں ہلاک ہونے والے ہر مزدور کے خاندان کو 5,00,000 پاکستانی روپے (تقریباً 1,800 امریکی ڈالر) کا معاوضہ دے گی۔ انھوں نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ حکام دھماکہ کے سبب کی مکمل تحقیقات کریں گے اور مستقبل میں ایسے حادثات کو روکنے کے لیے کان کنی سے متعلق حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیں گے۔
کوئلہ کان کنوں کی ایک لیبر یونین نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ دھماکہ لاپروائی کی وجہ سے ہوا اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن نے ایک بیان میں حکومت سے حفاظتی قوانین کو سختی سے نافذ کرنے اور کان کی حفاظت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی کوئلہ کان کنی صنعت میں جان لیوا حادثات عام ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان میں، جہاں کئی کانوں میں ہوا کی آمد و رفت کا مناسب انتظام، گیس کی نگرانی کا نظام اور حفاظت کے دیگر بنیادی انتظامات موجود نہیں ہیں۔ کان میں کام کرنے والے مزدور اور لیبر گروپ طویل عرصے سے کان مالکان پر حفاظتی قوانین نافذ نہ کرنے یا حفاظت کے لیے ضروری سامان فراہم نہ کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ خطرات اور کم اجرت کے باوجود بلوچستان میں ہزاروں کان کن اپنی روزی روٹی کے لیے کوئلہ صنعت پر انحصار کرتے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا لیکن سب سے کم ترقی یافتہ صوبہ ہے، جہاں بے روزگاری اور غربت بڑے پیمانے پر ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
