پاکستان نے افغانستان پر کیا ہوائی حملہ، 4 شہریوں کی موت کا دعویٰ
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغان طالبان فورسز نے ایک دن قبل اس کے سرحدی حفاظتی ٹھکانوں پر 8 ڈرون سے حملہ کیا تھا، تازہ حملہ اسی کی جوابی کارروائی ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان میں ہوائی حملہ کر دیا ہے۔ جمعرات کی صبح پاکستانی جنگی طیاروں نے قندھار، خوست اور پکتیا صوبوں میں 10 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت کے مطابق ان حملوں میں 4 عام شہریوں کی موت ہوئی ہے۔ افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے افغانستان کے خلاف جارحانہ حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کی اس کارروائی کا مناسب جواب دے گا۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغان طالبان فورسز نے ایک دن قبل اس کے سرحدی حفاظتی ٹھکانوں پر 8 ڈرون سے حملہ کیا تھا۔ پاکستان نے یہ بھی کہا کہ افغان سرحدی فورسز نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر مارٹر اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ تاہم کابل نے پاکستان کے ڈرون حملے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی فوجی کارروائیوں کو درست ثابت کرنے کے لیے ایسے الزامات عائد کر رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ چند ہی دنوں میں افغانستان پر پاکستان کی یہ دوسری بڑی فضائی کارروائی ہے۔ پیر کو بھی پاکستان نے مشرقی افغانستان میں حملے کیے تھے۔ پاکستان نے اس کارروائی میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغان حکام نے 3 شہریوں کی موت اور 4 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے بھی اس حملے میں شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
افغانستان کا کہنا ہے کہ سرحدی تنازعات اور سلامتی سے متعلق مسائل کا حل فوجی حملوں کے بجائے بات چیت اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بھی پاکستان سے اچھے پڑوسیوں جیسے تعلقات کا راستہ اپنانے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو پرامن اور مہذب طریقے سے آگے بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ بہرحال، افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ ایسے میں مسلسل ہونے والے سرحد پار حملوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
