پاکستان: ہائی کورٹ کا حکم- ’عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے، جیل مینول کے مطابق سہولیات دینے اور عمران خان کو بیٹوں سے فون پر بات کرانے کا حکم دیا ہے

اسلام آباد: پاکستان کے اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے جیل انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ دونوں کو تنہائی میں نہ رکھا جائے اور جیل مینول کے مطابق تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ عدالت نے عمران خان کو ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے منگل کو فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھے جانے کے خلاف دائر درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیا۔ عدالت نے اڈیالہ جیل کے حکام کو ہدایت دی کہ عمران خان کو جیل کے قواعد کے مطابق روزانہ اخبارات اور کتابیں فراہم کی جائیں اور انہیں طبی سہولیات بھی یقینی طور پر دستیاب ہوں۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ عمران خان کے اہل خانہ کو جیل کے ضابطوں کے مطابق ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ جیل انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ عمران خان اور ان کے بیٹوں کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کا انتظام کیا جائے۔عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو اپنے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے اور 15 دن کے اندر تعمیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
پاکستانی روزنامہ ’ڈان‘ کے مطابق جسٹس سومرو نے اس سے قبل 6 اگست کو عمران خان کی بہن علیمہ خانم اور بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے الگ الگ دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ دونوں کو ر قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور اہل خانہ سے ملاقات سمیت بنیادی سہولیات تک رسائی محدود کی گئی ہے۔
73 سالہ عمران خان، جو کرکٹر سے سیاست دان بنے، اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور وہ اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف ان کے خلاف مقدمات اور سزاؤں کو سیاسی طور پر محرک قرار دیتے رہے ہیں۔
عمران خان کے اہل خانہ اور حامیوں کا الزام ہے کہ جیل انتظامیہ نے ان کی اہل خانہ سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہو رہیں۔ حکومت تاہم ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
دوسری جانب اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو 24 گھنٹے ایک ہی سیل میں بند نہیں رکھا جاتا۔ ان کے مطابق عمران خان کو سات سیلوں پر مشتمل ایک کمپاؤنڈ میں جانے کی سہولت حاصل ہے، جہاں وہ دن کے اوقات میں چہل قدمی کر سکتے ہیں۔
بشریٰ بی بی بھی بدعنوانی سے متعلق مقدمات میں سزا کے بعد اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ انہیں پہلی بار 31 جنوری 2024 کو جیل بھیجا گیا تھا اور تقریباً نو ماہ بعد 24 اکتوبر کو ضمانت پر رہا کیا گیا۔ بعد ازاں ایک دوسرے مقدمے میں انہیں 17 جنوری 2025 کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ جیل حکام نے انہیں بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر الگ رکھنے کا مؤقف اختیار کیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
