تیل کی ایک ایک بوند کا محتاج ہوا پاکستان، بیرون ملکی ایئرلائنس کو ایندھن دینے سے کیا منع!

ایک رپورٹ کے مطابق ’نوٹم‘ میں کہا گیا ہے کہ جیٹ اے وَن فیول سپلائی چین میں رخنہ کی وجہ سے احتیاطاً سبھی ایئرلائنس کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تیل بیرونی ممالک سے لے کر چلیں۔

<div class="paragraphs"><p>طیارہ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے پاکستان کو کچھ زیادہ ہی اثر انداز کیا ہے۔ اس کا تازہ ثبوت پاکستان کا وہ فیصلہ ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملکی ایئرلائنز کی پروازوں کو پاکستان میں ایندھن فراہم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی واپسی کے لیے بھی طیاروں کو اپنے ملک سے ہی ایندھن لے کر آنا ہوگا۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے بیرون ملکی ایئرلائنز سے کہا ہے کہ ان کی پروازیں واپسی کے لیے پاکستان سے ایندھن نہ لیں، بلکہ ان کے پاس پاکستان آنے اور واپس جانے کے لیے ضروری ایندھن موجود ہونا چاہیے۔

دراصل ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہے، جس کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی جنوبی ایشیائی ممالک تک نہیں ہو پا رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو بے انتہا پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہاں تیل کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے نوٹس ٹو ایئر مین ’نوٹم‘ جاری کرتے ہوئے غیر ملکی ایئرلائنز کو ضروری ایندھن اپنے ممالک سے ساتھ لانے کی ہدایت دی ہے۔


’عرب نیوز‘ میں شائع 26 مارچ کی ایک رپورٹ کے مطابق نوٹم میں کہا گیا ہے کہ جیٹ اے-1 فیول سپلائی چین میں خلل کے باعث احتیاطی طور پر تمام ایئرلائنز کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ بیرون ملک سے زیادہ سے زیادہ ایندھن لے کر آئیں اور پاکستان میں جیٹ اے-1 فیول پر انحصار کم سے کم رکھیں۔ پی اے اے کے ایک افسر نے بھی اس نوٹم کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ یہ 13 مارچ کو جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، یہ ہدایت مقامی ایئرلائنز پر نافذ نہیں ہوگی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک افسر نے بتایا کہ گھریلو ایئرلائنز کو ضرورت کے مطابق پاکستان میں ہی ایندھن فراہم کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ ایران جنگ کے باعث ہندوستان میں بھی ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) یعنی ہوائی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں پروازوں کے ٹکٹ مہنگے ہونے کی بھی توقع ہے۔ تاہم، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ گھریلو روٹس پر اے ٹی ایف کی قیمتوں میں صرف 25 فیصد یعنی 15 روپے فی لیٹر کا اضافہ مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، جبکہ بین الاقوامی پروازوں کے لیے ایئرلائنز کو مکمل بڑھی ہوئی قیمت ادا کرنی ہوگی۔


عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث اے ٹی ایف کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ بڑھ کر ریکارڈ 2.07 لاکھ روپے فی کلو لیٹر ہو گئی ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ اے ٹی ایف کی قیمت 2 لاکھ روپے فی کلو لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ دہلی میں اے ٹی ایف کی قیمت 96,638.14 روپے فی کلو لیٹر سے بڑھا کر 2,07,341.22 روپے فی کلو لیٹر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل یکم مارچ کو ہوائی ایندھن کی قیمتوں میں 5.7 فیصد (5,244.75 روپے فی کلو لیٹر) کا اضافہ کیا گیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔