پاکستان: مسلح نقاب پوش افراد نے دن دہاڑے خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر کو اغوا کر لیا

سوشل میڈیا پر سامنے آئی مبینہ ویڈیو میں کچھ نقاب پوش افراد مین سڑک پر راستہ روکتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر کی گاڑی کو روکنے کے لیے ٹائر پر گولیاں چلائی گئیں۔

<div class="paragraphs"><p>فضل شکور خان، تصویر، سوشل میڈیا&nbsp;<a href="https://x.com/ShafiJanPTI">@ShafiJanPTI</a></p></div>
i

پاکستان کے خیبر پختونخوا میں دن دہاڑے ایک وزیر کے اغوا کی وجہ سے افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے وزیر فضل شکور خان کو پیر کی دوپہر مسلح نقاب پوش افراد نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ حملہ آوروں نے موٹر وے پر ان کی گاڑی کو روکا اور ٹائروں پر گولیاں چلائیں، اس کے بعد مسلح افراد وزیر کو اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔ رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں کے پاس ہتھیار تھے اور انہوں نے نقاب پہن رکھا تھا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آئی مبینہ ویڈیو میں کچھ نقاب پوش افراد مین سڑک پر راستہ روکتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر کی گاڑی کو روکنے کے لیے ٹائر پر گولیاں چلائی گئیں۔ اب تک یہ وضاحت نہیں ہو سکی ہے کہ فضل شکور خان کو کس تنظیم یا گروپ نے اغوا کیا ہے اور ان لوگوں کے کیا مطالبہ ہیں یا وجوہات کیا ہیں۔

وزیر فضل شکور خان کے علاوہ پی ٹی آئی لیڈر اور صوبائی رکن اسمبلی شکیل احمد کو بھی اغوا کرنے کی کوششوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ملاکنڈ میں شکیل احمد کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان میں شدید غصہ ہے۔ ملاکنڈ میں بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کارکنوں نے بٹ کھیلا بائی پاس کو جام کیا۔ اس دوران مظاہرین نے ٹائر جلائے اور نعرے بازی کی۔ پی ٹی آئی نے الزام لگایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس کی صوبائی قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لیڈران کو بندوق کی نوک پر اغوا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے ان وارداتوں کو آئین، قانون اور عوام کے مینڈیٹ پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سینئر لیڈران نے بھی وزیر اور پارٹی لیڈران کو نشانہ بنائے جانے پر جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے وزراء اور لیڈران کے خلاف مبینہ کارروائی اور قانونی نظم و نسق کا مسئلہ حل نہیں ہوا تو پورے صوبے میں احتجاجی مظاہرے تیز کر دیے جائیں گے۔ فی الحال فضل شکور خان کے اغوا کا ذمہ دار کون ہے اور ان کا کیا ہوا۔ اب تک اس حوالے سے سرکاری طور پر وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔