پاکستان: کراچی کے علاقے صدر میں بم دھماکہ، ایک شخص جان بحق، 13 زخمی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے صدر میں جمعرات کی شب دیر گئے بم دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک راہگیر جاں بحق اور 13 افراد زخمی ہو گئے ہیں

کراچی میں دھماکہ
کراچی میں دھماکہ
user

قومی آوازبیورو

اسلام آباد: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے صدر میں جمعرات کی شب دیر گئے بم دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک راہگیر جاں بحق اور 13 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ کراچی شہرکے منتظم بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ایک ٹویٹ میں بم دھماکے میں ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور وہ مزید تفصیل جاری کریں گے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے مطابق بظاہر بم حملے میں ساحلی محافظوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔بم دھماکے سے آٹھ سے دس گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر لیا ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم کے ساتھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکار بھی تحقیقات کے لیے دھماکے کی جگہ پر موجود تھے۔


کراچی صدر میں واقع یونائیٹڈ بیکری کے قریب ہونے والے دھماکے سے گاڑیوں کے علاوہ املاک کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ جائے وقوعہ کی فوٹیج سے پتا چلتا ہے کہ دھماکے میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) مشتاق احمد مہر نے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو بتایا ہے کہ اس واردات میں ایک دھماکہ خیز آلہ (آئی ای ڈی) استعمال کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دھماکہ خیز ڈیوائس ایک موٹر بائیک کے ساتھ نصب کی گئی تھی۔ تاہم کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بم دھماکے میں شہری کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور مقتول کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی دیکھ بھال مہیا کی جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔


تجارتی شہر میں دہشت گردی کا یہ واقعہ جامعہ کراچی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں خودکش بم دھماکے میں تین چینی ماہرین تعلیم اور ان کے مقامی وین ڈرائیور کی ہلاکت کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد پیش آیا ہے۔ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔