پاکستانی نیم فوجی دستے کے کیمپس کے قریب شدید فائرنگ
دہشت گردوں نے پہلے خودکش حملہ کیا، اس کے بعد دھماکہ ہوا اور پھر فائرنگ ۔ مقامی حکام نے اب تک دو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

پاکستان کے شہر کراچی میں ایک بڑا دہشت گرد حملہ ہوا ہے۔ ایک بڑا دہشت گرد حملہ پیرا ملٹری فورس فرنٹیئر کور کے کیمپس پر ہوا ۔ دونوں طرف سے فائرنگ کا سلسلہ ہوا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دہشت گردوں نے پہلے خود کش حملہ کیا، اس کے بعد دھماکہ ہوا اور پھر فائرنگ ۔ مقامی حکام نے اب تک دو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
پاکستانی فوج اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ۔ یہ حملہ رات 8 بج کر 10 منٹ پر کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رینچرز کراچی ٹرانسپورٹ کے دفتر پر ہوا۔ دہشت گردوں نے پہلے دفتر کے مین گیٹ پر ایک طاقتور بم دھماکہ کیا جس کے فوراً بعد پورے علاقے میں شدید فائرنگ شروع ہو گئی۔
زخمی نیم فوجی اہلکاروں کو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (DUHS) میں داخل کرایا گیا ہے۔ دہشت گردانہ حملے میں دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، اور چھ کوڈی یو ایچ ایس ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ خودکش حملے میں خود کو دھماکے سے اڑانے والے ایک دہشت گرد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ تین سے چار دہشت گرد تاحال کیمپس کو گھیرے میں لے کر فائرنگ کر رہے تھے۔ حملے کی جگہ پر رینجرز کا دفتر، یونیورسٹی اور محکمہ موسمیات موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان نے خاندان کے ایک فرد کے حوالے سے خبر دی ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔ پاکستان رینجرز کو کراچی میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے انسداد کے لیے اکثر تعینات کیا جاتا ہے۔ اس لیے گلستان جوہر میں رینجرز کا ہیڈ کوارٹر انتہائی سیکیورٹی والا علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔
سندھ پولیس کے حکام نے واضح کیا ہے کہ جس کیمپس میں دہشت گرد حملہ ہوا وہ پیرا ملٹری فورس پاکستان رینجرز کا ہے۔چونکہ دونوں کیمپس ملحقہ ہیں، اس لیے مقامی حکام نے ابتدائی طور پر بتایا کہ حملہ فرنٹیئر کور کے کیمپس میں ہوا، لیکن سندھ پولیس نے اب وضاحت جاری کر دی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
