پاکستان میں مہنگائی نے حکومت کو ’کفایتی موڈ‘ پر ڈالا، شادیوں میں صرف ایک پکوان کی اجازت، سرکاری عشائیہ بھی بند!

ایران جنگ کی وجہ سے پاکستان مہنگائی کے ساتھ ساتھ ایندھن کے شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ کفایت شعاری سے متعلق نئے اقدامات فی الحال اسلام آباد تک محدود ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف </p></div>
i

پاکستان میں مہنگائی نے حکومت کو بری طرح مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ خاص طور سے ملک میں پٹرول اور ڈیزل بچانے کے لیے کئی فیصلے نافذ کیے گئے ہیں۔ پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں اب تمام دکانیں، بازار، جنرل اسٹور اور شاپنگ مال وغیرہ پورے ہفتہ رات 9 بجے بند ہو جائیں گے۔ شادی ہال اور میرج ٹینٹ بھی رات 10 بجے تک بند ہو جانے چاہئیں۔ ریسٹورنٹ اور کھانے پینے کی جگہوں کو رات 11 بجے تک بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں، شادی کی تقریبات میں صرف ایک ہی پکوان پیش کی جا سکے گی۔ علاوہ ازیں پاکستان کی حکومت نے سرکاری عشائیہ پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

دراصل ایران جنگ کی وجہ سے پاکستان مہنگائی کے ساتھ ساتھ ایندھن کے شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ کفایت شعاری سے متعلق یہ نئے اقدامات فی الحال اسلام آباد تک محدود ہیں، لیکن پاکستان کی وفاقی حکومت نے ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ بھی ان اقدامات کو اپنائیں۔ یہی نہیں، پاکستان میں اپنائے گئے نئے اقدامات میں سرکاری گاڑیاں خریدنے پر مکمل پابندی اور سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کے الاٹمنٹ میں 50 فیصد کمی شامل ہے۔ اخراجات بچانے کے لیے پاکستان نے وفاقی حکومت کے ملازمین کے بیرون ملک سفر کرنے پر 3 ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے۔ اگر وزیر بیرون ملک سفر کریں گے تو انہیں اکانومی کلاس میں سفر کرنے کو کہا گیا ہے۔


واضح رہے کہ ایران جنگ، معیشت کی خستہ حالی اور قرضوں نے پاکستان کو بدحال کر رکھا ہے۔ اسی لیے پاکستان کی حکومت کو یہ فیصلے لینے پڑے ہیں۔ پاکستان نے مارچ میں امریکہ-ایران جنگ شروع ہونے کے بعد اسی طرح کے اخراجات میں کمی کے اقدامات نافذ کیے تھے۔ ان اقدامات کے تحت اسلام آباد نے 2 ہفتوں کے لیے اسکول بند کر دیے تھے، سرکاری افسران کے لیے ایندھن کا خرچ کم کر دیا تھا اور ایندھن بچانے اور سرکاری اخراجات کم کرنے کے مقصد سے دفتری ملازمین کو گھر سے کام کرنے کے لیے کہا تھا۔ اب پاکستان ایک بار پھر اسی طرح کے اقدامات کرنے کو مجبور نظر آ رہا ہے۔

پاکستان حکومت کے کابینہ ڈویژن نے جمعرات کو اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کیا اور یہ اقدامات فوری طور پر نافذ ہو گئے۔ ایندھن کے خرچ میں کمی اور وفاقی حکام کے بیرون ملک سفر پر پابندی سمیت کچھ پابندیاں کم از کم 3 ماہ تک نافذ رہیں گی۔ پاکستان کے اخبار ’ڈان‘ کے مطابق عام لوگوں پر اثر ڈالنے والے اقدامات میں پاکستان حکومت نے ہدایت دی ہے کہ شادی سے متعلق تمام پروگراموں اور تقریبات میں صرف ایک ہی پکوان پیش کی جائے۔ ساتھ ہی حکومت نے کہا ہے کہ تجارتی مقامات کے لیے جلد بند ہونے کا وقت بھی مقرر کیا گیا ہے۔ دکانوں، بازاروں، شاپنگ مال، ڈپارٹمنٹل اور گروسری اسٹور کو رات 9 بجے تک بند کرنا ہوگا۔ شادی بیاہ کے ہال، ٹینٹ اور دیگر تجارتی مقامات جہاں تقریبات منعقد ہوتی ہیں، انہیں رات 10 بجے تک بند کرنا ہوگا، جبکہ ریسٹورنٹ، کیفے، کھانے پینے کی جگہوں اور فوڈ آؤٹ لیٹس کو رات 11 بجے تک بند کرنا ہوگا۔ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری خدمات کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔


پاکستان نے کہا ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران ملازمین سے متعلق اخراجات کو چھوڑ کر دیگر اخراجات میں ہر ماہ 5 فیصد کی کمی کی جائے گی۔ یہ ضابطہ پاکستان کے بیرون ملک سفارتی مشنز اور بیرون ملک تعینات افسران پر بھی نافذ ہوگا۔ ترقیاتی منصوبوں کو اخراجات میں کمی کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ حکومت نے 3 ماہ کے لیے بیرون ملک دوروں اور سفر پر مکمل پابندی عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جس میں ضروری دورے بھی شامل ہیں۔ جن معاملات میں بیرون ملک سفر ضروری ہے، وہاں سرکاری نمائندوں اور افسران کو اکانومی کلاس میں سفر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔