کیا عمران خان مالی امداد کے لئے سعودی عرب جا رہے ہیں؟

عمران خان پاکستانی وزير اعظم بننے کے بعد اپنے پہلے غير ملکی دورے پر سعودی عرب جا رہے ہيں۔ سياسی حلقوں ميں يہ قياس آرائياں کی جا رہی ہيں کہ اس دورے پر رياض حکومت سے مالی امداد طلب کی جا سکتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
i

پاکستانی وزير اعظم عمران خان آج سے دو روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہو رہے ہيں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے 17 ستمبر کو ایک بیان جاری کر کے اس کی اطلاع دی گئی۔

بيان کے مطابق، يہ دورہ سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزير اور سعودی فرمانروا محمد بن سلمان کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔ بيان کے مطابق عمران خان، شاہ سلمان اور محمد بن سلمان سے ملاقاتيں کريں گے جب کہ پاکستانی وزير اعظم کے اعزاز ميں ايک شاہی عشائيے کا انتظام بھی کيا جائے گا۔ اسلام آباد حکومت کے ايک سينئر اہلکار کے مطابق پاکستان کے وزير اعظم سعودی قيادت سے اپنی ملاقاتوں ميں اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خيال کريں گے۔

عمران خان پاکستانی وزير اعظم کے طور پر حلف اٹھانے کے عين ايک ماہ بعد يہ دورہ کر رہے ہيں۔ ملک کو اس وقت مالی خسارے کا سامنا ہے اور ايسے ميں يہ قياس آرائياں پہلے ہی سے جاری تھيں کہ اسلام آباد حکومت اس مشکل گھڑی ميں اپنے روايتی اتحادی اور دوست ملک سعودی عرب کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہے۔ پاکستان رياض حکومت سے کئی بلين ڈالر کا قرض مانگ سکتا ہے۔ پاکستانی حکومت کو اقتصادی مشکلات کے علاوہ انتہا پسندی، پانی کی شديد قلت اور آبادی ميں اضافے جيسے کئی مسائل کا سامنا ہے۔

اس وقت البتہ سب سے اہم معاملہ خسارے کا ہے، جس سبب پاکستان کو انٹرنيشنل مانيٹری فنڈ يا آئی ايم ايف سے بيل آؤٹ پيکج کے سلسلے ميں رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔ ايسے ميں يہی کہا جا رہا تھا کہ پاکستان رياض يا بيجنگ کا رخ کر سکتا ہے اور اس طرح وہ آئی ايم ايف کے دروازے کھٹکھٹانے سے بچ سکتا ہے۔

اطلاعات ہيں کہ پاکستان چين سے دو بلين اور سعودی عرب سے ساڑھے چار بلين ڈالر کے قرضے کا مطالبہ کر رہا ہے تاہم فی الحال اس کی تصديق نہيں ہو پائی ہے۔

دريں اثناء پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاويد باجوہ تين روزہ سرکاری دورے پر اتوار سے چين ميں ہيں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 18 Sep 2018, 2:00 PM