آزادی مارچ:عمران خان استعفی کے علاوہ ’واجب‘ مطالبات تسلیم کرنے کو تیار

’آزادی مارچ‘ سے گھبرائے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کی ان کے استعفی کے علاوہ تمام ’واجب‘ مطالبات ماننے کو تیار ہیں۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

مذہبی رہنما فضل الرحمن کے پاکستان حکومت کے خلاف ’آزادی مارچ‘ سے گھبرائے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کی ان کے استعفی کے علاوہ تمام ’واجب‘ مطالبات ماننے کو تیار ہیں۔
ایکسپریس ٹربيون نے عمران خان کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’استعفی کے علاوہ حکومت تمام واجب مطالبات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے‘‘۔

بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نے یہ بات وزیر دفاع پرویز کھٹک کی قیادت والے عملے کے ساتھ ایک اجلاس میں کہی۔ اس ٹیم کو اسلام آباد میں مظاہرہ کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مسئلہ حل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ مسٹر کھٹک کی قیادت والی حکومت کی ٹیم نے جمعیت علمائے اسلام فضل (جےيوآئی ایف) کے لیڈروں سے ملاقات کرکے آگے کی کارروائی پر بات چیت کی۔


پاکستان میڈیا کے مطابق یہ اجلاس سرکاری مذاکرات ٹیم اور رہبر کمیٹی کے درمیان دوسرے دور کی بات چیت سے پہلے ہوئی۔ رهبر کمیٹی میں اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق مسٹر کھٹک اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویز الہی نے رہبر کمیٹی کے ساتھ ہوئی بات چیت کی تفصیلات وزیر اعظم کو دیں۔ مسٹر الہی نے مسٹر رحمان کے ساتھ اپنی بات چیت کے بارے میں بھی مسٹر خان کو واقف کرایا۔


پیر کے روز بھی حکومت کی طرف سے دو الگ الگ مذاکراتی ٹیموں نے تعطل کو ختم کرنے کے لئے جے یو آئی ۔ ۔ ایف کی طرف سے رابطہ کیا تھا۔ وزیر دفاع کی قیادت میں پہلی ٹیم اسلام آباد میں رحمان کی رہائش گاہ پر رہبر کمیٹی سے ملی تھی۔ اجلاس کے کچھ گھنٹے بعد سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کی قیادت والی دوسرای سرکاری ٹیم بھی مطالبات پر بات چیت کرنے کے لئے مسٹر الرحمن سے ملی تھی۔ آزادی مارچ 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔