بلوچ لبریشن آرمی نے پاکستان کو کیا لہولہان، 25 پاکستانی فوجی ہوئے ہلاک، اسلحے کی ہوئی لوٹ پاٹ
اگست 2026 میں بھی بی ایل اے نے 9 سے 15 اگست کے درمیان 8 دنوں میں 22 مربوط حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تنظیم نے ان حملوں میں 26 پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کے مارے جانے کی بات کہی تھی۔
پاکستان کے بلوچستان میں پاکستانی فوج اور سیکورٹی فورسز کے خلاف 2 الگ الگ حملوں کو لے کر ’بلوچ لبریشن آرمی‘ یعنی بی ایل اے نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 3 ستمبر کو ہوئے ان حملوں میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کے 25 اہلکار مارے گئے ہیں۔ بی ایل اے کے مطابق پہلا حملہ زیارت کراس کے قریب پاکستانی فوج کے ایک قافلہ کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے قافلہ کی 2 گاڑیوں کو تباہ کر دیا اور اس حملہ میں 18 سیکورٹی اہلکار مارے گئے۔بی ایل اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ 5 زخمی اہلکار وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب رہے، جبکہ حملہ آوروں نے اسلحے اپنے قبضے میں لے لیے۔
تنظنیم نے دوسرے حملہ کا دعویٰ سراب کے حازقہ علاقے میں کیا۔ بی ایل اے کے مطابق یہاں اس کے ’ایس ٹی او ایس‘ نے ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی گاڑی میں دھماکہ کیا۔ اس حملہ میں 7 سیکورٹی اہلکاروں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بی ایل اے نے زیارت کراس پر ہوئے حملہ میں اپنے فتح اسکواڈ کے شامل ہونے کی بات کہی ہے۔ تنظیم نے دونوں حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔
ان حملوں میں مجموعی طور پر 25 پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کے مارے جانے کے بی ایل اے کے دعووں کی فی الحال پاکستانی حکام یا کسی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ بی ایل اے اس سے پہلے بھی پاکستانی فوج اور سیکورٹی فورسز پر کیے گئے حملوں میں بڑی تعداد میں اہلکاروں کے مارے جانے کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے طویل عرصہ سے پاکستانی فوج اور سیکورٹی فورسز کے خلاف مسلح مہم چلا رہی ہے۔ اگست 2026 میں بھی بی ایل اے نے 9 سے 15 اگست کے درمیان 8 دنوں میں 22 مربوط حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تنظیم نے ان حملوں میں 26 پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کے مارے جانے کی بات کہی تھی۔
اگست کے آخر میں مستونگ کے قریب ایک فوجی قافلے پر آئی ای ڈی حملے کو لے کر بھی بی ایل اے نے 13 فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ علاوہ ازیں جولائی 2026 میں گوادر کوسٹ گارڈ کیمپ پر خودکش حملہ کی ذمہ داری بی ایل اے کی مجید بریگیڈ نے قبول کی تھی اور 30 سے زیادہ نیم فوجی اہلکاروں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
