پاکستانی سپریم کورٹ کی پہلی جج مقرر ہوں گی عائشہ ملک

جسٹس عائشہ اے ملک لاہور ہائی کورٹ کی سینیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں جنہیں اگر سپریم کورٹ میں ترقی دے دی گئی تو وہ مارچ 2031 تک سپریم کورٹ کی جج رہیں گی

جسٹس عائشہ ملک
جسٹس عائشہ ملک
user

قومی آوازبیورو

اسلام آباد: ملک کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) ایک خاتون جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے جا رہا ہے۔ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک لاہور ہائی کورٹ کی سینیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں جنہیں اگر سپریم کورٹ میں ترقی دے دی گئی تو وہ مارچ 2031 تک سپریم کورٹ کی جج رہیں گی۔

اس وقت سپریم کورٹ میں 17 مقررہ ججز کی تعداد پوری ہے اور جسٹس عائشہ ملک 17 اگست کو جسٹس مشیر عالم کی ریٹائرمنٹ سے خالی ہونے والی اسامی پُر کریں گی۔

ایک سینیئر وکیل نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ہم نے کافی عرصے بعد ایک مثبت اور تروتازہ کردینے والی خبر سنی ورنہ ہم جے سی پی کے بارے میں اختلافات اور تنازعات کی خبریں ہی سنتے رہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سینیارٹی کے اصول کی بنیاد پر بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز اس اقدام کی مخالفت کرسکتی ہیں کیوں کہ ہائی کورٹ سے ایک اور جونیئر جج کو ترقی دی جا رہی ہے۔


ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے وکیل نے کہا کہ جسٹس فاطمہ بی بی وہ پہلی خاتون جج تھیں جنہیں سپریم کورٹ آف انڈیا میں ترقی دی گئی جو 1992 میں ریٹائر ہوگئی تھیں اور اب تک 8 خواتین ججز سپریم کورٹ کا حصہ بن چکی ہیں۔

قبل ازیں جوڈیشل کمیشن نے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ میں بطور جج ترقی کی تھی۔ساتھ ہی کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کو عدالت عظمیٰ میں ایڈہاک جج بننے کی بھی پیش کش کی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔

اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین احمد نے کہا کہ جسٹس عائشہ ایک اچھی شہرت کی حامل جج ہیں اور عدلیہ کے اعلیٰ حصوں میں خواتین کو دیکھنا خوش آئند ہے۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیا سینیارٹی کے اصول کو مدِ نظر رکھا گیا ہمار ے پاس سال 03-2002 میں پاس لاہور ہائی کورٹ کی ایک خاتون چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کی ایک جج ہوتی لیکن جسٹس فخرالنسا کھوکھر کو غلط طور پر اور بار بار بائی پاس کیا گیا۔ساتھ ہی انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ نہ صرف پنجاب بلکہ دیگر صوبوں کے بھی متعدد سینیئر ججز کو نظر انداز کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔