پاکستان: خودکش حملہ میں 128 افراد ہلاک، آئی ایس نے ذمہ داری قبول کی

حکام نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وطن پہنچنے سے پہلے ہونے والے دھماکے سے ملک میں کشیدگی کا ماحول بنا ہوا ہے۔

کوئٹہ: پاکستان کے صوبے بلوچستان کےضلع مستنگ میں جمعہ کو دوپہر ایک خودکش دھماکے میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت 128 افراد ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہو گئے۔

دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کی خبر رساں ایجنسی ’اماک‘ نے اپنے بیان میں دھماکے کے حوالے سے مزید تفصیلات اور ثبوت پیش نہیں کئے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وطن پہنچنے سے پہلے ہونے والے دھماکے سے ملک میں کشیدگی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ ایک ہفتے میں انتخابی ریلی پر یہ تیسرا حملہ ہے اور ایک ماہ میں جمعہ كو ہونے والا دھماکے سب سے بڑا ہے۔ سینئر پولس اہلکار قیوم لاشری نے پہلے ہی کہا کہ ریلی میں 1000 سے زائد افرادشامل تھے۔

خودکش دھماکہ مستنگ سے بی اے پی کے امیدوار سراج رئیسانی کو ہدف بنا کر کیا گیا۔ سراج بلوچستان کے سابق وزیر اعلی نواب اسلم رائسنی کے چھوٹے بھائی تھے۔ حملے میں شدید زخمی سراج کو ڈاکٹروں نے کوئٹہ بھیجا جہاں ہسپتال میں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔ باقی زخمی ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال میں داخل کرائے گئے ہیں۔

بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت اتحاد سے الگ ہونے کے بعد بی اے پی کی تشکیل اس سال مارچ میں ہوئی تھی۔ جمعہ سے پہلے بنوں میں خیر پختونخواہ کے سابق وزیر اکرم خان درانی کے قافلے پر بھی حملہ کیا گیا، حالانکہ وہ بچ گئے۔ اس حملے میں چار لوگوں کی موت ہوگئی تھی اور 32 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ اسی طرح جمعرات کی رات خزدار میں بھی پی اے پی کے انتخابی دفتر کے پاس دھماکے میں دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔

سب سے زیادہ مقبول