کیا ’آبنائے ہرمز‘ کھولنے میں تاخیر ہوگی؟ ایران کو اپنی ہی بچھائی ہوئی سمندری بارودی سرنگیں نہیں مل رہیں
’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اس علاقے میں زمین اور سمندر دونوں جگہ بارودی سرنگیں بچھائی تھیں، تاکہ امریکہ و خلیجی ممالک پر دباؤ بنایا جا سکے اور اپنے اوپر ہونے والے حملوں کو روکا جا سکے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئی 15 روزہ عارضی جنگ بندی کے بعد ایسا لگا تھا کہ ’آبنائے ہرمز‘ کھول دیا جائے گا۔ لیکن اب تک یہ سمندری راستہ کھل نہیں پایا ہے، اس کے نہ کھلنے کی کئی وجوہات سامنے آ رہی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ایران خود اپنی بچھائی ہوئی سمندری بارودی سرنگیں نہیں ڈھونڈ پا رہا ہے۔ امریکی افسران کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ان بارودی سرنگوں کو ٹریک کرنے اور صاف کرنے کی محدود صلاحیت ہے، اس لیے وہ امریکہ کی وارننگ کے باوجود اس راستے کو کھول نہیں پا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب جے ڈی وینس امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے ہیں۔ اس بات چیت میں آبنائے ہرمز سب سے بڑا مسئلہ رہے گا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اس سمندری راستے کو فوری طور پر کھول دے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اسے جنگ کو ختم کرنے کی اہم شرط بتایا ہے۔ دوسری طرف ایران اس سمندری راستے پر کنٹرول چاہتا ہے۔
’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اس علاقے میں زمین اور سمندر دونوں جگہ بارودی سرنگیں بچھائی تھیں، تاکہ امریکہ اور خلیجی ممالک پر دباؤ بنایا جا سکے اور اپنے اوپر ہونے والے حملوں کو روکا جا سکے۔ یہ آبی گزرگاہ بہت اہم ہے، کیونکہ اسی راستے سے خلیجی ممالک کا تیل دنیا بھر میں پہنچتا ہے۔ بارودی سرنگوں، ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرے کی وجہ سے یہ راستہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے بند ہے۔ جہاز یہاں سے گزرنے سے ڈر رہے ہیں۔ اس کا اثر ہندوستان سمیت کئی ممالک پر پڑا ہے، جہاں توانائی کے بحران کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے بارودی سرنگیں درست طریقے سے نہیں بچھائیں اور ہو سکتا ہے کہ اسے ان کی صحیح جگہ بھی یاد نہ ہو۔ کچھ بارودی سرنگیں پانی میں بہہ کر اپنی جگہ بدل چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بارودی سرنگوں کو ہٹانا انہیں بچھانے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ یہاں تک کہ امریکی فوج کے پاس بھی انہیں ہٹانے کی صلاحیت محدود ہے، کیونکہ وہ ان کے لیے خاص جہازوں کا استعمال کرتی ہے جن میں بارودی سرنگیں ہٹانے کی ٹیکنالوجی ہوتی ہے۔ ایران کے پاس بھی اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ جلدی سے ان بارودی سرنگوں کو ہٹا سکے، خواہ وہ اسی نے بچھائی ہوں۔
قابل ذکر ہے کہ مارچ کے آخر میں ٹرمپ نے ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملے روک دیے تھے اور امن کے لیے ایک ڈیڈ لائن طے کی تھی۔ اس تجویز میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا بھی شامل تھا۔ بعد میں اس ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی گئی اور 2 ہفتوں کی عارضی جنگ بندی ہوئی۔ اس کے باوجود اب تک یہ راستہ بند ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔