نیتن یاہو کی کرسی بچے گی یا جائے گی؟ اسرائیل میں بج گیا انتخابی بگل، 38 سالوں بعد شیڈول کے مطابق ہوگی ووٹنگ

اسرائیل میں انتخابات کی باضابطہ تاریخ 27 اکتوبر 2026 طے کر دی گئی ہے۔ اتحادی حکومت کے مطالبے کے بعد انتخاب طے شدہ وقت پر کرانے کا فیصلہ لیا گیا۔

نیتن یاہو، تصویر یو این آئی
i

اسرائیل میں اگلے عام انتخاب کی تاریخ طے ہو گئی ہے۔ ملک میں 27 اکتوبر 2026 کو ووٹنگ ہوگی۔ خاص بات یہ ہے کہ 38 سالوں کے بعد انتخاب طے شدہ شیڈول کے مطابق کرائے جائیں گے۔ غور طلب ہے کہ 53 سالوں میں پہلی بار کوئی حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے بعد انتخاب لڑے گی۔ سبھی کی نظریں بنجامن نیتن یاہو پر ہے کہ وہ اقتدار میں واپسی کریں گے یا عوام کسی دوسرے کو اقتدار سونپے گی۔ اسرائیل میں انتخابات کی باضابطہ تاریخ 27 اکتوبر 2026 طے کر دی گئی ہے۔ اتحادی حکومت کے مطالبے کے بعد انتخاب طے شدہ وقت پر کرانے کا فیصلہ لیا گیا۔ اب انتخاب میں تقریباً 107 دن باقی ہیں۔ جب کہ پرچہ نامزدگی کی آخری تاریخ 7 ستمبر ہوگی۔ اسرائیل کی سیاست کافی عرصے سے غیر مستحکم رہی ہے۔ اکثر اتحاد ٹوٹنے، اکثریت کھونے یا سیاسی بحران کی وجہ سے وقت سے پہلے انتخابات کرانے پڑے ہیں۔ اس بار حالات مختلف ہیں۔

نیتن یاہو پہلے ہی وضاحت کر چکے ہیں کہ وہ انتخاب لڑیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی قومی حکومت بنانا چاہتے ہیں، جو صرف کسی ایک نظریہ پر مبنی نہ ہو۔ انتخابی تشہیر میں ان کی توجہ سیکورٹی کے مسئلے پر ہوگی۔ خصوصاً ایران اور لبنان کے حزب اللہ کے خلاف چلائی گئی فوجی مہم کو وہ عوام کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے چینل 12 نیوز کے سروے میں نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور گادی ایزن کوٹ کی پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ دکھایا گیا تھا۔ دونوں پارٹیوں کو 120 اراکین پارلیمنٹ میں 23-23 فیصد سیٹیں ملنے کا امکان بتایا گیا ہے۔ اس سے صاف ہو جاتا ہے کہ مقابلہ آسان نہیں رہنے والا۔ اسرائیل میں پارلیمنٹ یعنی نیسیٹ کی 120 سیٹوں کے لیے ہر چار سال میں انتخاب ہوتے ہیں۔ اگر حکومت پارلیمنٹ کا اعتماد کھو دیتی ہے، اکثریت ختم ہو جائے یا پارلیمنٹ خود تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لے، تو وقت سے پہلے بھی انتخاب کرائے جا سکتے ہیں۔


یہاں متناسب نمائندگی کا نظام رائج ہے۔ ووٹر کسی ایک امیدوار کے بجائے کسی سیاسی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔ جس پارٹی کو جتنے فیصد ووٹ ملتے ہیں، اسی تناسب سے اسے پارلیمنٹ میں سیٹیں ملتی ہیں۔ بعد میں اکثریت دکھا کر حکومت بنائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی پارٹی 10 فیصد ووٹ حاصل کرتی ہے، تو اسے 120 سیٹوں (120 کا 10 فیصد = 12) میں سے 12 سیٹیں ملتی ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نیسیٹ میں سیٹ حاصل کرنے کے لیے کم از کم 3.25 فیصد ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ اگر کوئی پارٹی اس سے کم ووٹ حاصل کرتی ہے تو اسے نیسیٹ میں سیٹیں نہیں ملتی ہیں۔ یہ انتخاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب اسرائیل کو سیکورٹی اور سیاسی مسائل درپیش ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں میں ملک نے حماس، حذب اللہ اور ایران جیسے تنازعات دیکھے ہیں۔