امریکی صدر ٹرمپ عوام کو کیلا کھانے سے کیوں منع کر رہے؟
پروٹین کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے درد سر بن گئی ہیں، کیونکہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے بیف کی قیمتوں کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہو رہی ہیں۔

اپنی عجیب و غریب بیان بازی کے لیے مشہور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ایک نیا بیان سرخیوں میں ہے۔ انہوں نے ’ٹریڈ ڈیفیسٹ‘ یعنی تجارتی خسارے کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر ہم برازیل سے 2 ارب ڈالر کے کیلے خریدتے ہیں تو دراصل ہم 2 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر ہم کیلے کھانا بند کر دیں تو دراصل ہم 2 ارب ڈالر بچا لیں گے۔‘‘ گویا کہ وہ عوام کو کیلا کھانے سے منع کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ’’جس طرح کوئی ملک جو تیار شدہ اشیا پیدا نہیں کرتا وہ قومی سلامتی کے لیے ضروری صنعتی بنیاد کو برقرار نہیں رکھ سکتا، اسی طرح کوئی ملک طویل عرصے تک قائم نہیں رہ سکتا اگر وہ اپنا کھانا خود پیدا نہ کر سکے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی بیف انڈسٹری پر برازیل کے اثرات کی بھی مسلسل مخالفت کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان کی کچھ پالیسیاں اسی ملک کو مدد بھی پہنچا رہی ہیں، کیونکہ وہ ملک میں گوشت کی قیمتیں کم کرنا چاہتے ہیں۔ کنسلٹنسی فرم ’سافراس اینڈ مرکاڈو‘ کے تجزیہ کار فرنانڈو ایگلیسیاس نے کہا کہ ’’یہ تبدیلی برازیل کے لیے بہت فائدہ مند ہوگی۔ لیکن اس کے پیچھے اپنا فائدہ بھی ہے۔ امریکہ کو اس وقت اس بیف کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔‘‘
پروٹین کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے درد سر بن گئی ہیں، کیونکہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے بیف کی قیمتوں کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہو رہی ہیں۔ اگست میں صدر نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلے 90 دنوں میں کم ٹیرف کی شرح پر 3,00,000 ٹن تک گراؤنڈ بیف درآمد کرنے کی اجازت دیں گے۔
اب 2026 کے وسط مدتی انتخابات یہ طے کریں گے کہ جنوری 2027 سے شروع ہونے والی 120ویں کانگریس میں کون کون کام کرے گا۔ اس میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں کے لیے انتخابات ہوں گے۔ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے لیے انتخابات ہوں گے۔ سینیٹ میں 33 نشستیں عام انتخابات میں سامنے آئیں گی اور 2 نشستیں خصوصی انتخابات کے ذریعے پُر کی جائیں گی۔ یہ 2 نشستیں اس لیے خالی ہوئی تھیں کیونکہ جے ڈی وینس (اوہائیو) نائب صدر بن گئے اور مارکو روبیو (فلوریڈا) وزیر خارجہ بن گئے۔
