فلوریڈا میں کیوں دی جا رہی ہے سب سے زیادہ پھانسی؟
2025 کے دوران امریکہ میں مجموعی طور پر 47 افراد کو تختۂ دار پر چڑھایا گیا۔ سبھی معاملوں پر تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال دیگر ریاستوں کے مقابلے فلوریڈا میں سب سے زیادہ سزائے موت دی گئی۔

امریکہ کے فلوریڈا میں اس سال 18ویں پھانسی کی سزا دی جا رہی ہے۔ دراصل ریپبلکن گورنر رون ڈی سینٹس اپنی مدت کار کے آخری مرحلے میں سزائے موت کا سختی سے استعمال کر رہے ہیں۔ 77 سالہ ولیم ریوز کو 1986 میں انڈین ریور کاؤنٹی کے ڈپٹی رچرڈ ریزکووسکی کو گولی مار کر قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ اسٹارک کے قریب واقع فلوریڈا اسٹیٹ جیل میں ریوز کو 3 دواؤں کا انجیکشن دے کر پھانسی دی جائے گی۔ وہ اس سال فلوریڈا میں پھانسی کی سزا پانے والے 70 سال سے زیادہ عمر کے آٹھویں قیدی ہوں گے۔ سزائے موت دینے کے معاملے میں فلوریڈا ملک کی دیگر ریاستوں سے کافی آگے نکل گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال فلوریڈا نے ایک ہی سال میں 19 افراد کو پھانسی دے کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔ نومبر میں ایک اور پھانسی طے ہے۔ اگر منصوبے کے مطابق سب کچھ ہوا تو یہ گزشتہ سال کے ریکارڈ کی برابری کر لے گا۔ جنوری میں اپنا عہدہ چھوڑنے جا رہے ڈیسینٹس نے پہلے کہا تھا کہ ان کا مقصد ان متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف دلانا ہے، جو کئی دہائیوں سے مجرموں کو پھانسی دیے جانے کا انتظار کر رہے تھے۔
امریکی سپریم کورٹ نے منگل کی دوپہر ریوز کی آخری اپیل کو بغیر کوئی تبصرہ کیے مسترد کر دیا۔ فلوریڈا ڈپارٹمنٹ آف کریکشنز کے ترجمان جارڈن کرکلینڈ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ریوز منگل کی صبح 5 بجے اٹھے اور پورا دن پرسکون رہے۔ قیدی نے آخری کھانے کے طور پر کریکرز اور جوس لیا۔ ان سے ملاقات کے لیے 4 افراد آئے تھے، جن میں ان کی بہن، بھائی، بھتیجا اور ایک دوست شامل تھے۔ ریوز نے ایک روحانی مشیر سے بھی ملاقات کی۔
2025 کے دوران امریکہ میں مجموعی طور پر 47 افراد کو تختۂ دار پر چڑھایا گیا۔ سبھی معاملوں پر تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال دیگر ریاستوں کے مقابلے فلوریڈا میں سب سے زیادہ سزائے موت دی گئی۔ اس سال بھی امریکہ میں 31 مجرموں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی، جن میں سے 18 فلوریڈا میں انجام دی گئی۔ فلوریڈا نے ایک ہی دن میں 2 قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔ ایسا کرنے والی وہ تقریباً ایک دہائی میں پہلی ریاست بن گئی۔ اس ریاست میں 5 نومبر کو 64 سالہ جیسی گارڈاڈو کو انجیکشن دے کر سزائے موت دی جانی ہے۔ اسے 2004 میں منشیات خریدنے کے لیے ایک خاتون کو لوٹنے اور اس کا قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
فلوریڈا میں پھانسی کی سزا سے متعلق اہم نکات
فلوریڈا میں سزائے موت کے وارنٹ پر دستخط کرنے کا اختیار گورنر کے پاس ہے۔ اس لیے پھانسی کی تاریخ طے کرنے اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔
ریپبلکن گورنر رون ڈیسینٹس کا ماننا ہے کہ سنگین جرائم کے لیے سزائے موت ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف کے لیے کئی دہائیوں تک انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
ڈیسینٹس نے 2019 سے 2024 کے درمیان سزائے موت کے 9 وارنٹ پر دستخط کیے تھے۔ 2025 میں انہوں نے 19 وارنٹ پر دستخط کیے، جبکہ 2026 میں اب تک 10 وارنٹ پر دستخط کر چکے ہیں۔
فلوریڈا میں سزائے موت کے لیے 12 میں سے 8 جیوری اراکین کی سفارش ضروری ہوتی ہے۔ امریکہ کی ریاستوں میں فلوریڈا اور الاباما ایسی ریاستیں ہیں، جہاں سزائے موت کی سفارش کے لیے جیوری کے تمام اراکین کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
2025 میں فلوریڈا میں سزائے موت کے انتظار میں تقریباً 300 قیدیوں کی فہرست تھی۔ کیلیفورنیا کے بعد یہ امریکہ میں سزائے موت کا انتظار کرنے والے قیدیوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد تھی۔
گورنر کا کہنا ہے کہ کئی جرائم 1980 کی دہائی میں ہوئے تھے اور مجرموں کی اپیلوں کے عمل میں کئی دہائیاں لگ گئیں۔ تمام اپیلیں ختم ہونے کے بعد متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف دلانا ضروری ہے۔
ڈیسینٹس کا ماننا ہے کہ سزائے موت مجرموں کو سنگین جرائم کرنے سے روک سکتی ہے۔ حالانکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے محققین اس دلیل سے متفق نہیں ہیں اور سزائے موت کو جرائم روکنے کا مؤثر طریقہ نہیں مانتے۔
فلوریڈا میں پھانسی کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے گورنر کا سخت رویہ بھی سامنے آرہا ہے۔ وہ ڈیتھ وارنٹ پر تیزی سے دستخط کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
