’ٹول نہیں وصولیں گے، لیکن بحری خدمات کے لیے لگے گا ماحولیاتی ٹیکس‘، آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا بیان
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’ایران اور عمان مل کر ایک نیا پروٹوکول تیار کر رہے ہیں۔ اس کے تحت آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ماحولیات کے تحفظ کے لیے بحری خدمات فراہم کی جائیں گی۔‘‘

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ معاہدے کو لے کر جاری قیاس آرائیوں کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز کو لے کر ایک اہم بیان دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر (25 مئی) کو کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کسی طرح کا ٹول ٹیکس نہیں وصولے گا، لیکن بحری اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق خدمات کے لیے ٹیکس وصولا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ایران کی جانب سے ٹول وصولی کے اشارے دیے گئے تھے اور امریکہ-ایران مذاکرات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’ایران اور عمان مل کر ایک نیا پروٹوکول تیار کر رہے ہیں۔ اس کے تحت آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ماحولیات کے تحفظ کے لیے بحری خدمات فراہم کی جائیں گی۔‘‘ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اسے ٹول کہنا غلط ہوگا، کیونکہ یہ ماحولیاتی تحفظ اور سمندری سیکورٹی سے منسلک ’انوائرنمنٹ ٹیکس‘ (ماحولیاتی ٹیکس) ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آبانئے ہرمز کا انتظام ساحلی ممالک کا حق ہے اور ایران-عمان اسے آزاد تجارت اور محفوظ بحری آمد و رفت کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسماعیل بقائی کے مطابق نائب وزیر خارجہ کا عمان دوررہ بھی اسی نئے سیکورٹی نظام اور محفوظ آمد و رفت کے نظام پر تبادلۂ خیال کے لیے ہوا ہے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سیکورٹی پوری دنیا کے لیے تشویش کا موضوع ہے، لیکن ایران اپنی سیکورٹی کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پہلے اس سمندری راستے کا استعمال ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے لیے کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایران آس پاس کے ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سیکورٹی اور علاقائی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ممکنہ امریکہ-ایران معاہدہ پر انہوں نے کہا کہ امریکہ کے وعدوں کی گوئی گارنٹی نہیں ہے اور ایران کسی بھی دھمکی کی پرواہ نہیں کرتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کی ثالثی ایک بڑی تبدیلی ہے اور لبنان تنازعہ کو ختم کرنے سے متعلق التزام بھی مذاکرات کا حصہ ہے۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال امریکہ-ایران بات چیت میں جوہری پروگرام اہم معاملہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق موجودہ بات چیت کی توجہ کشیدگی ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل اس پورے عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ہندوستان دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کو لے کر جلد کوئی بڑی خبر سامنے آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو معاہدہ نہیں ہو پایا، لیکن اسے ناکامی نہیں مانا جانا چاہیے۔ روبیو کے مطابق امریکہ نے ایران کے سامنے ایک مضبوط تجویز پیش کی ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر طے شدہ وقت کے اندر سنجیدہ مذاکرات شروع کرنے کی بات چیت شامل ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
