’دو تین ہفتوں میں ہم ایران پر تیز حملے کریں گے‘، ٹرمپ کی تقریر کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعہ قوم کے نام خطاب سے سرمایہ کاروں کی فکر ختم ہونے کا امکان تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ خصوصاً آبنائے ہرمز معاملہ کا حل نکلنے سے متعلق کوئی واضح اشارہ دیکھنے کو نہیں ملا۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ملک کے نام خطاب کیا۔ امید کی جا رہی تھی کہ اس خطاب کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ختم ہونے کے اشارے ملیں گے، لیکن ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی تقریر کے بعد ہی برینٹ کروڈ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں تیلوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ یکم اپریل کو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے آ گئی تھیں، لیکن ایک ہی دن بعد وہ دوبارہ تقریباً 4 فیصد بڑھ کر 105 ڈالر ہو گئیں۔ برینٹ کروڈ 105 ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 103 ڈالر تک جا پہنچا۔

جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ٹرمپ کے ذریعہ قوم کے نام خطاب سے سرمایہ کاروں کی فکر ختم ہونے کا امکان تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ خصوصاً آبنائے ہرمز معاملہ کا حل نکلنے سے متعلق کوئی واضح اشارہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ امریکی صدر نے دیگر ممالک سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کی اپیل کی، جس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ 4 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 105.55 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 3 فیصد بڑھ کر 103.16 ڈالر تک پہنچ گیا۔ امریکی صدر کی تقریر سے قبل دونوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی تھی۔


قابل ذکر ہے کہ ایران کے ساتھ جاری شدید جنگ کے درمیان امریکی صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 6:30 بجے قوم سے خطاب کیا۔ یہ خطاب ایسے وقت میں ہوا جب مشرق وسطیٰ میں مسلسل حملے جاری ہیں اور ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے مستقبل کے حوالہ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ٹرمپ کے خطاب سے قبل تہران نے واشنگٹن پر حد سے زیادہ اور غیر منطقی مطالبات رکھنے کا الزام عائد کیا تھا اور دونوں فریقوں کے درمیان کسی بھی براہ راست مذاکرات سے انکار کیا تھا۔

ٹرمپ کے اس خطاب پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز تھیں، کیونکہ یہ ایران کے ساتھ تنازعہ شروع ہونے کے بعد ان کا پہلا بڑا قومی خطاب تھا۔ اس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے تیز اور فیصلہ کن کامیابی حاصل کی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی بحریہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اس کی فضائیہ تباہ ہو گئی ہے اور اسلامی انقلابی گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) کی قیادت مکمل طور پر ناکارہ بنا دی گئی ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ دو تین ہفتوں کے اندر ایران پر بھرپور حملہ کیا جائے گا۔


بہرحال، تیل کی قیمتوں میں تیزی اس وقت آئی ہے جب ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کی وارننگ دی، جس میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کا امکان بھی شامل ہے۔ انھوں نے جاری حملوں کو جنگ کے مزید پھیلنے سے جوڑا ہے۔ آبنائے ہرمز کے اطراف کشیدگی برقرار رہنے کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جو 28 فروری کو لڑائی شروع ہونے کے بعد سے کافی حد تک متاثر ہوئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔