جنگ زدہ یوکرین کی مشرق وسطیٰ کو پیشکش، روس سے ’سیز فائر‘ کراؤ، آپ کو ایران کے ڈرون حملوں سے بچاؤں گا

زیلینسکی کا دعویٰ ہے کہ یوکرین کے خلاف اب تک 57 ہزار ڈرون استعمال ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ہزاروں ڈرون تہران کے ذریعہ ماسکو بھیجے گئے تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ ایرانی ڈرون اور میزائل سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ میں ایران نے کہرام مچایا ہوا ہے۔ ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک میں موجود امریکی ایئربیس پر ڈرون اور میزائل سے مسلسل حملے کر رہا ہے۔ اس درمیان یوکرین کے صدر زیلینسکی نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ایک پیشکش کی ہے۔ ’بلومبرگ‘ کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ کے ممالک روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو ایک ماہ کی جنگ بندی (سیز فائر) کے لیے منا لیتے ہیں تو یوکرین انہیں ایرانی ڈرون سے بچائے گا۔

یوکرینی صدر نے کہا کہ وہ ایرانی ڈرون کو روکنے میں ماہر اپنے بہترین ماہرین کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔ زیلنسکی کے مطابق یوکرین طویل عرصے سے روس کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔ اس درمیان انہیں ڈرون گرانے کا وسیع تجربہ حاصل ہوا ہے۔ ان کی فوج نے روس کے کئی ہائی ٹیک ڈرونز کو فضا میں مار گرایا ہے۔ زیلینسکی کا دعویٰ ہے کہ یوکرین کے خلاف اب تک 57 ہزار ڈرون استعمال کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو یوکرین کی فوج نے ہوا میں ہی مار گرایا ہے۔ ان میں سے ہزاروں ڈرون تہران کے ذریعہ ماسکو بھیجے گئے تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ ایرانی ڈرون اور میزائل سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔


یوکرینی صدر نے کہا کہ میں ایران سے متاثر مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں۔ دراصل مشرق وسطیٰ کے ممالک کے روس کے ساتھ بہت اچھے تعلقا ت ہیں۔ ایسے میں وہ روس سے ایک ماہ کے لیے سیز فائر کرنے کی گزارش کر سکتے ہیں۔ اگر روس اس کے لیے مان جاتا ہے تو یوکرین مشرق وسطیٰ کے ممالک کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے لیے یوکرین کے اعلیٰ ڈرون انٹرسیپٹر آپریٹرز کو مشرق وسطیٰ بھیجا جائے گا۔ ساتھ ہی زیلینسکی نے کہا کہ ایران جس طرح حملے کر رہا ہے ایسے میں یہ جنگ 2 ہفتوں یا 2 ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ یوکرین مسلسل غیر مشروط جنگ بندی کی بات کر رہا ہے، جبکہ ماسکو نے اس تجویز کو خارج کرتے ہوئے یوکرین پر اپنے مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 28 فروری سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اس جنگ میں اب تک ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کے خاندان کے کئی اراکین اور متعدد دیگر اعلیٰ حکام کی موت ہو چکی ہے۔ اسی کے بعد سے ایران مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی اڈوں اور اسرائیل پر ڈرون اور میزائلوں سے مسلسل حملے کر رہا ہے۔ ایران نے عراق، بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں اسرائیلی اور امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔