امریکی فوج نے ایران پر حملہ کر دیا، بندرعباس میں زور دار دھماکے

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ اب ختم ہو گیا ہے۔ اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیئے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پر اب تک کا سب سے تباہ کن حملہ بدھ کی رات کیا جا سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ امریکی فوج نے ایران پر حملہ کر دیا ہے۔ ایران کے بندر عباس اور سیریک علاقے امریکی حملوں کی زد میں ہیں۔ دونوں علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی میزان کے مطابق بندر عباس کے ساتھ ساتھ سیریک میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے بھی بندر عباس میں ہونے والے دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق چابہار اور کونارک کے قریب بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی فضائی دفاعی نظام کو بھی فعال کر دیا گیا۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق تازہ حملوں کے بعد چابہار کے کچھ حصوں میں بجلی کی فراہمی منقطع کر دی گئی ہے۔


ایران کے سرکاری پریس ٹی وی کے مطابق ابو موسیٰ جزیرے پر کل دس دھماکے ہوئے۔ چابہار اور کونارک میں بھی دس دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ چابہار کے ایک اسپتال پر فائر کیے گئے ہتھیار کا ملبہ گر گیا ۔ پریس ٹی وی کے مطابق بوشہر میں دو پروجیکٹائل بھی گرے اور جاسک میں کئی دھماکے ہوئے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے چابہار حملے سے اٹھنے والے شعلوں کی تصویر ٹروتھ سوشل پر شیئر کی۔ انہوں نے لکھا کہ یہ ایران کی جانب سے گزشتہ روز بحری جہازوں پر حملے کا ردعمل ہے۔ انہوں نے مزید دھمکی دی کہ اگر دوبارہ ایسی کارروائی کی گئی تو اس کا ردعمل اور بھی سخت ہوگا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا کہ امریکی افواج نے صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔ امریکی فوج نے کہا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی آزادی کے لیے ایران کی صلاحیت کو مزید کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔