امریکہ کے ایران پر مسلسل حملے جاری، ایران بھی جوابی کارراوئی کر رہا ہے

جنوبی ایران کے علاقے سریک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس سے قبل امریکی فوج ایران کے متعدد علاقوں اور جزیروں کو نشانہ بنا چکی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

کل یعنی بدھ کے روز، امریکہ نے مسلسل 12ویں رات ایران پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ایرانی میڈیا آؤٹ لیٹ پریس ٹی وی کے مطابق جنوبی ایران کے علاقے سریک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس سے قبل امریکی فوج نے ایران کے متعدد علاقوں اور جزیروں کو نشانہ بنایا تھا۔

دریں اثنا،یو ایس سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نئے حملوں کا اعلان کیا۔  سینٹرل کمانڈنے لکھا کہ کمانڈر انچیف کے حکم پر، امریکی فوج نے ایرانی فوجی اڈوں پر مزید حملے شروع کیے ہیں۔ سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ مشن ایران کی شہری ملاحوں اور تجارتی جہازوں کو دھمکانے کی صلاحیت کو کمزور کرتا رہے گا۔


امریکی فوج مسلسل کئی راتوں سے ایران پر فضائی حملے کر رہی ہے۔ ان کارروائیوں میں ایرانی طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات، فوجی آپریشن کے مراکز، سمندری صلاحیتوں اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو لاحق خطرے کو کم کرنا ہے۔

ادھر ایران بھی ان حملوں کا جواب دے رہا ہے۔ منگل کو ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔ مزید برآں، بحرین اور کویت میں میزائل حملوں سے خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے گئے۔ اس جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔


ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ امریکی فوج جلد ہی ایران میں ان علاقوں کو نشانہ بنا سکتی ہے جو اس کی یورینیم افزودگی کی بڑی تنصیبات کے قریب ہیں۔