ناٹو سے علیحدہ ہونے پر سنجیدگی سے غور کر رہے امریکی صدر ٹرمپ، ایک انٹرویو میں انکشاف
ٹرمپ نے کہا کہ مجھے ناٹو کبھی پسند نہیں تھا۔ میں اسے چھوڑنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں۔ اس پر زیادہ غور کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ میں ایران جنگ ختم ہونے کے بعد اس پر فیصلہ سناؤں گا۔

ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اُمید کے مطابق نتائج نہیں ملے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اسے دوست ممالک سے مکمل تعاون حاصل نہیں ہوا۔ دنیا کی سب سے مضبوط دفاعی معاہدہ ناٹو (نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن) سے بھی امریکی صدر انتہائی ناراض ہیں اور جلد ہی وہ ناٹو سے امریکہ کو علیحدہ کرنے کا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ اس بارے میں انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے یکم اپریل کو ’ڈیلی ٹیلی گراف‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ناٹو چھوڑنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اس بارے میں کوئی اعلان ایران جنگ ختم ہونے کے بعد کیا جا سکتا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایک دن قبل ہی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ناٹو اور امریکہ کے رشتوں کا جائزہ لینے کی بات کہی تھی۔
بہرحال، انٹرویو کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’مجھے ناٹو کبھی پسند نہیں تھا۔ میں اسے چھوڑنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں۔ اس پر زیادہ غور کرنے کی جرورت بھی نہیں ہے۔ میں ایران جنگ ختم ہونے کے بعد اس پر فیصلہ سناؤں گا۔‘‘ بات چیت کے دوران ٹرمپ نے ناٹو کو ’کاغذی شیر‘ قرار دیا اور ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’یوکرین جنگ امریکہ کی جنگ نہیں تھی۔ یہ یوروپ کی جنگ تھی۔ پھر بھی امریکہ نے یوکرین کا تعاون کیا۔ ہم وہاں موجود رہے، لیکن جب ہماری باری آئی تو سبھی کنارے ہو گئے۔ سب نے ہمیں وہاں تنہا چھوڑ دیا۔‘‘
انٹرویو کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے پوتن اور کیر اسٹارمر کا بھی ذکر کیا۔ پوتن کا ذکر ناٹو کے تعلق سے کرتے ہوئے کہا کہ ’’پوتن بھی اس تنظیم کی طاقت (کمزوری) سے واقف ہیں۔ اسی لیے روس بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیتا ہے۔‘‘ برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کی تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’برطانیہ کے پاس بحریہ ہے ہی نہیں۔ یہ بہت پرانی ہو چکی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم صرف توانائی بچانے میں مصروف ہیں۔ اس سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میں انھیں اب کوئی مشورہ نہیں دوں گا۔ انھیں جو کرنا ہے، کریں۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔