آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں ’انسانی سیلاب‘ دیکھ کر حیران ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
’ایکسیوس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ تہران میں جاری آخری رسومات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آخری رسومات میں بھیڑ دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری ہیں۔ ان کے آخری دیدار کے لیے لوگوں کا جم غفیر جمع ہے۔ راجدھانی تہران کی شاہراہوں پر تاحد نگاہ لوگوں کا سیلاب نظر آرہا ہے۔ اسی اثناء میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں جمع ہونے والے بڑے ہجوم پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
’ایکسیوس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ تہران میں جاری آخری رسومات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آخری رسومات میں بھیڑ دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ خامنہ ای ملک میں غیر مقبول ہوچکے تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سوچا تھا کہ لوگ خامنہ ای سے نفرت کرتے تھے۔ لیکن تہران میں لاکھوں لوگوں کا جم غفیر دیکھ کر وہ حیران ہو گئے۔ آخری رسومات کے دوران غم میں روتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر ٹرمپ نے کہا کہ شاید یہ آنسو محض دکھاوا ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے بے چین ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں نے آخری رسومات مکمل ہونے تک مذاکرات ملتوی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں ایران کے کئی اعلیٰ حکام موجود تھے اور امریکہ چاہے تو ان پر حملہ کر سکتا ہے، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ کیونکہ مذاکرات کے لیے قیادت کی موجودگی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ سب وہاں موجود ہیں۔ ہم ان سب کو ایک گولی سے ختم کرسکتے ہیں، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ ہمارے پاس بات چیت کرنے کے لیے کوئی نہیں بچے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی فریق آخری رسومات کے دوران حملہ نہیں کرے گا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں لوگوں کی شرکت کے متعلق ایران کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 2 سے 3 دنوں میں تقریباً 15 ملین افراد آخری رسومات میں شامل ہوسکتے ہیں۔
امام خمینی گریٹ مصلیٰ کے قریب عارضی اسپتال بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت اور خاندان کے دیگر افراد کا تابوت بھی عوام کے دیکھنے کے لیے رکھا گیا ہے۔ بھیڑ میں شامل لوگوں نے سیاہ لباس زیب تن کیے اور ’مرگ بر امریکہ‘ اور ’مرگ بر اسرائیل‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ کچھ لوگوں کے پوسٹروں پر ٹرمپ کے قتل کا مطالبہ بھی درج تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای آخری رسومات میں نظر نہیں آئے۔ فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای بھی اس حملے میں زخمی ہو گئے تھے، جس میں ان کے والد، والدہ اور اہلیہ کی موت ہو گئی تھی۔ تبھی سے وہ ایرانی میڈیا کے ذریعے صرف تحریری بیانات بھیج رہے ہیں۔ ایرانی افسران نے تہران، قم اور مشہد میں کئی الوداعی رسومات کا اعلان کیا ہے۔ لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کے آنے کا کوئی شیڈول نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیکورٹی حکام نے انہیں آنے سے منع کر دیا ہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ اسرائیل مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
