امریکی فوج نے چھوڑا عراق، 23 سال کے ملٹری آپریشن کا ہوا خاتمہ!
عراق میں امریکی فوجی مہم امریکہ کے لیے طویل اور مہنگی رہی۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق 2 دہائیوں سے زیادہ وقت تک جاری رہنے والی اس مہم میں تقریباً 4500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

امریکی فوج نے بدھ (30 ستمبر) کو عراق میں اپنے بچے ہوئے فوجی ٹھکانوں سے بھی واپسی مکمل کر لی۔ اس کے ساتھ ہی 2003 میں شروع ہوئی امریکی فوجی موجودگی کا یہ مرحلہ ختم ہو گیا۔ دراصل امریکہ اور عراق نے 2024 میں اس واپسی کی ٹائم لائن طے کی تھی۔ اس فیصلے کو اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نافذ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج کی اس واپسی کو ایران اور ان کے حمایتی گروپ اپنی جیت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ عراق میں اس بات کو لر خدشہ بھی ہے کہ امریکی فوجیوں کی موجودگی ختم ہونے کے بعد سیکورٹی کے انتظامات پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے 2003 میں عراق پر حملہ کیا تھا۔ اس کارروائی میں صدام حسین کی حکومت کو ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد کئی سالوں تک امریکی فوج عراق میں رہی۔ 2011 کے آخر میں امریکی فوجیوں نے عراق سے واپسی کی تھی، لیکن 2014 میں آئی ایس آئی ایس (داعش) کے تیزی سے ابھرنے کے بعد امریکی فوج پھر عراق لوٹی۔ امریکی اور اتحادی افواج نے عراقی سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف مہم چلائی۔ 2017 تک عراق میں داعش کے قبضے والے بڑے علاقوں کو واپس لے لیا گیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ اور عراق نے امریکی قیادت والے فوجی مشن کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ستمبر 2024 میں دنووں ممالک نے مشن کو مرحلہ وار طریقے سے ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ 30 ستمبر 2026 کو اس منصوبہ کا آخری مرحلہ مکمل ہو گیا۔
عراق میں امریکی فوجی مہم امریکہ کے لیے طویل اور مہنگی رہی۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق 2 دہائیوں سے زیادہ وقت تک جاری رہنے والی اس مہم میں تقریباً 4500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ امریکی فوج 2011 میں پوری طرح عراق سے باہر ہو گئی تھی، لیکن داعش کے بڑھتے خطرے کے بعد اسے کچھ ہی سالوں میں واپس لوٹنا پڑا۔ اس بار امریکہ نے اپنا فوجی کردار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب عراقی سیکورٹی فورسز کو ملک میں دہشت گردی کے خلاف مہم کی ذمہ داری سنبھالنی ہوگی۔
امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد عراق میں ایران کے اثر کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ایران کے ساتھ وابستہ کئی شیعہ مسلح گروپ عراق کی سیاست اور سیکورٹی کے انتظامات میں پہلے سے اثر رکھتے ہیں۔ عراقی سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی موجودگی ختم ہونے کے بعد ان گروپوں کو اپنا اثر بڑھانے کا زیادہ موقع مل سکتا ہے۔ سیکورٹی امور کے ماہر جاسم البہدلی نے ’رائٹرز‘ سے کہا کہ ایران نواز ملیشیا اس واپسی کو اپنی جیت کے طور پر پیش کر سکتے ہیں اور اس کا استعمال سیکورٹی اور سیاسی فیصلوں پر اپنا اثر ڈالنے کے لیے کر سکتے ہیں۔
امریکی فوج کی واپسی کے بعد ایک بڑی تشویش داعش کو لے کر ہے۔ عراق میں داعش کا علاقائی قبضہ 2017 تک ختم کر دیا گیا تھا، لیکن تنظیم سے وابستہ لوگ اور چھوٹے گروہ اب بھی موجود ہیں۔ امریکہ نے عراقی سیکورٹی فورسز کو ٹریننگ، خفیہ معلومات اور فضائی نگرانی جیسی مدد دی ہے۔ اب امریکی فوجیوں کی براہ راست موجودگی نہ رہنے پر عراقی سیکورٹی فورسز کی اپنی صلاحیت کا امتحان ہوگا۔ کچھ افسران اور ماہرین کو خدشہ ہے کہ سیکورٹی میں کسی بھی طرح کی کمزوری کا فائدہ آئی ایس آئی ایس کے بچے ہوئے نیٹورک اٹھا سکتے ہیں۔
