یو ایس آرمی کی ٹیکنالوجی پریکٹس کے باعث ایئر ایمبولنس ہوا تھا حادثہ کا شکار! ’جی پی ایس جیمنگ‘ پر اٹھے سوال
نیو میکسیکو میں ’کنگ ایئر 90‘ نام کا ایک ایئر ایمبولنس 14 مئی 2026 کو حادثہ کا شکار ہو گیا تھا۔ اس واقعہ میں 4 لوگوں کی موت ہو گئی تھی، جس میں 2 پائلٹ اور 2 نرسنگ اسٹاف تھے۔

14 مئی 2026 کو نیو میکسیکو میں ’کنگ ایئر 90‘ نام کا ایک ایئر ایمبولنس حادثہ کا شکار ہو گیا تھا۔ اس واقعہ میں 4 لوگوں کی موت ہو گئی تھی، جس میں 2 پائلٹ اور 2 نرسنگ اسٹاف تھے۔ اس معاملے میں اب ایک نیا موڑ آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ جی پی ایس جیمنگ کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ حالانکہ تحقیقات اب بھی جاری ہے، لیکن کئی تجزیہ نگاروں نے کہا کہ جی پی ایس جیمنگ سے اس طرح کے واقعات ممکن ہیں۔ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ نیو میکسیکو میں حادثہ کا شکار ہوئے ایک میڈیکل طیارے کی پرواز کے دوران جی پی ایس سگنلز متاثر ہوئے تھے۔ اسی وقت امریکی فوج علاقے میں جی پی ایس جیمنگ کی مشق کر رہی تھی۔ حالانکہ تحقیقاتی ایجنسی نے ابھی یہ نہیں کہا ہے کہ حادثے کی واحد وجہ یہی تھی۔ حتمی رپورٹ آنا اب بھی باقی ہے۔
واضح رہے کہ حادثہ نیو میکسیکو کے روئیڈوسو علاقے کے پاس پیش آیا تھا۔ ’بیچ کرافٹ کنگ ایئر‘ ایمبولنس طیارے میں 2 پائلٹ اور 2 میڈیکل اسٹاف موجود تھے۔ طیارہ ایک مریض کو لینے جا رہا تھا لیکن راستے میں پہاڑ سے ٹکرا گیا۔ حادثے میں چاروں کی موت ہو گئی۔ واقعہ کے بعد اس علاقے کے جنگل میں بھی آگ لگ گئی تھی۔ اب اس معاملے میں امریکہ کے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ یعنی ’این ٹی ایس بی‘ کی ابتدائی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طیارہ جس وقت پرواز بھر رہا تھا، اسی دوران پاس کے وائٹ سینڈس میزائل رینج میں امریکی فوج جی پی ایس جیمنگ کی ٹریننگ کر رہی تھی۔ پرواز کے دوران پائلٹوں نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو بتایا کہ انہیں جی پی ایس سگنل نہیں مل رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آس پاس پرواز کر رہے دیگر 3 طیاروں نے بھی جی پی ایس میں دقت پیش آنے کی اطلاع دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرول نے کچھ وقت کے لیے ملٹری سے جی پی ایس جیمنگ روکنے کو بھی کہا تھا۔ اس کے بعد پائلٹوں نے بتایا کہ انہیں ایئرپورٹ کی لائٹ نظر آ رہی ہے اور وہ ویژول اپروچ سے اترنے کی کوشش کریں گے، لیکن کچھ دیر بعد طیارہ پہاڑ سے ٹکرا گیا۔ اس لیے ابتدائی تحقیقات یہ نہیں کہتی کہ صرف جی پی ایس جیمنگ کی وجہ سے طیارہ حادثہ کا شکار ہوا۔ تحقیقاتی ایجنسی ابھی پورے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ’جی پی ایس جیمنگ‘ ایک ایسی تکنیک ہے جس میں جی پی ایس سگنل کو جان بوجھ کر کمزور یا بند کیا جاتا ہے۔ فوج اس کا استعمال جنگی مشق، دشمن کے ڈرون یا میزائل کو گمراہ کرنے اور الیکٹرانک وارفیئر کی ٹریننگ کے دوران کرتی ہے۔ جب جی پی ایس جام ہوتا ہے تو آس پاس موجود ڈیوائس، ڈرون یا طیارہ کو صحیح لوکیشن نہیں مل پاتی یا سگنل پوری طرح غائب ہو سکتا ہے۔ آج زیادہ تر جدید طیارہ جی پی ایس بیسڈ نیوی گیشن کا استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس دوسرے نیوی گیشن سسٹم بھی ہوتے ہیں، لیکن جی پی ایس بند ہونے پر پائلٹوں کا کام مشکل ہو سکتا ہے، خاص کر رات کے وقت یا پہاڑی علاقے میں۔ یہی وجہ ہے کہ اس حادثے کے بعد جی پی ایس جیمنگ اور مسافر طیاروں کی حفاظت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ سالوں میں دنیا کے کئی حصوں میں جی پی ایس جیمنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ جنگ اور ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال بھی مانا جا رہا ہے۔ ایسے میں مسافر طیاروں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایئر ٹریفک کنٹرول، ایئرلائنس اور فوج کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ فی الحال اس حادثے کی حتمی رپورٹ مکمل نہیں ہوئی ہے۔ ’این ٹی ایس بی‘ نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ ابتدائی رپورٹ ہے اور حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ طیارہ حادثے کی اصل وجہ کیا تھی اور اس میں جی پی ایس جیمنگ کا کردار کتنا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
