اقوام متحدہ جیسے ادارے اپنے حقیقی مقصد سے بھٹک چکے ہیں: مارکو روبیو
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی نظام کی ناکامی پر تبصرہ کیا۔ روبیو نے کہا کہ اقوام متحدہ جیسے ادارے اپنے حقیقی مقصد سے بھٹک چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عالمی نظام کے بارے میں تہلکہ خیز تبصرہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ بین الاقوامی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بہت اچھا ہوگا اگر دنیا میں ایک فعال بین الاقوامی نظام موجود ہو جو عالمی تنازعات کو روک سکے اور حل کر سکے۔ تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کی بے پناہ صلاحیت کے باوجود وہ اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا۔
روبیو نے کہا، "بہت سے عالمی رہنماؤں نے نشاندہی کی ہے کہ بین الاقوامی نظام ناکام ہو رہا ہے۔ یہ ناکام ہو رہا ہے کیونکہ یہ اپنے حقیقی مقصد اور مطلوبہ دائرہ کار سے بہت آگے جا چکا ہے۔" اقوام متحدہ بہت ساری چیزوں میں الجھا ہوا ہے جس میں اسے شامل نہیں ہونا چاہئے، اور آج یہ دنیا کے کسی بھی بڑے تنازعات کو حل کرنے کے لئے خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ جیسے ادارے اپنے ہی وزن کے نیچے دب چکے ہیں اور انہیں ان کی توجہ اور مناسب کردار پر واپس لانے کی اشد ضرورت ہے۔
روبیو نے مزید کہا کہ’’ یہ(اقوام متحدہ ) ٹوٹ چکا ہے۔ اسے اس کی مناسب توجہ اور مناسب کردار کی طرف واپس لانے کی ضرورت ہے۔ یہ بہت اچھا ہوگا اگر ہمارے پاس ایک فعال بین الاقوامی نظام ہو، مثال کے طور پر، جو تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ سے نمٹ سکتا ہو۔ ابھی، ایسا نہیں لگتا کہ ہمارے پاس کوئی فعال بین الاقوامی نظام ہے جو اسے حل کر سکے۔‘‘
روبیو نے یہ بھی کہا کہ موجودہ نظام کی ناکامی کی صورت میں خودمختار قومیں اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے اور عمل کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صدر ڈونالڈ ٹرمپ اقتدار میں ہیں، امریکہ ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھے گا، کسی بین الاقوامی نظام یا حکم کو نہیں۔ قومی مفاد ہمیشہ امریکی پالیسی کا مرکز رہے گا۔ غور طلب ہے کہ مارکو روبیو کا یہ تبصرہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے دنیا سے خطاب کے ٹھیک ایک دن بعد آیا ہے۔ اپنے خطاب میں ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے گزشتہ سال ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کا حل نکال لیا ہے۔
