ممکنہ بڑی آفت سے نمٹنے کے لیے برطانوی حکومت کی نئی مہم ’پریپئر‘ کے تحت عوام کے لیے راشن ذخیرہ کرنے کی ایڈوائزری جاری!

برطانوی حکومت نے ملک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ممکنہ بڑی آفت سے نمٹنے کے لیے گھروں میں کم از کم 3 دنوں کا خشک راشن اور فی کس 9 لیٹر بوتل بند پانی فوراً ذخیرہ کر لیں۔

<div class="paragraphs"><p>برطانیہ کا پرچم، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

برطانوی حکومت نے شہریوں کے لیے ایک انتہائی چونکا دینے والی وارننگ جاری کی ہے۔ حکومت نے ملک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ بڑی آفت سے نمٹنے کے لیے اپنے گھروں میں کم از کم 3 دنوں کا خشک راشن اور فی کس 9 لیٹر بوتل بند پانی کا ذخیرہ فوراً جمع کر لیں۔ یہ مشورہ برطانوی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ایک نئی قومی مہم ’پریپئر‘ کے تحت دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد کسی بھی قومی بحران کے ابتدائی 72 گھنٹوں کے دوران شہریوں کو خود کفیل بنانا ہے۔

برطانوی وزراء اور سیکورٹی ماہرین کے مطابق ملک کو سہ جہتی بحران کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ سے کبھی بھی سپلائی نظام متاثر ہو سکتا ہے:

  1. دشمن ممالک کا خوف: روس اور دیگر مخالف ممالک کی جانب سے برطانیہ کے پاور گرڈ یا بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ۔

  2. ڈیجیٹل بلیک آؤٹ: بڑے پیمانے پر سائبر حملے، جو بجلی، پانی اور آن لائن ادائیگی کے نظام کو مکمل طور پر ٹھپ کر سکتے ہیں۔

  3. قدرتی آفات کی تباہ کاری: اچانک شدید موسمی حالات (ایکسٹریم ویدر) یا سیلاب، جن کی وجہ سے امدادی سامان پہنچانے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔


خورد و نوش کے علاوہ ’ایمرجنسی کٹ‘ میں کیا کیا ہونا لازمی ہے؟

  • حکومت کی جانب سے جاری سرکاری رہنما ہدایت کے مطابق ہر گھر میں ایک ’ایمرجنسی ریزیلینس کٹ‘ تیار ہونی چاہیے، جس میں درج ذیل چیزیں شامل ہوں:

  • 9 لیٹر پانی: فی کس یومیہ 3 لیٹر کے حساب سے 3 دنوں کے لیے بوتل بند پانی۔

  • خراب نہ ہونے والی غذائی اشیا: ایسا ڈبہ بند یا خشک کھانا، جسے تیار کرنے کے لیے بجلی یا گیس کی ضرورت نہ پڑے۔

  • پاور بینک اور ٹارچ: بجلی گل ہونے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے۔

  • وائنڈ اپ ریڈیو: انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک بند ہونے کی صورت میں سرکاری اطلاع سننے کے لیے ہاتھ سے چلنے والا ریڈیو۔

  • نقد رقم اور ادویات: ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام ناکام ہونے کی صورت میں استعمال کے لیے کچھ نقد رقم اور ضروری ابتدائی طبی امداد کی کٹ۔

اس ایڈوائزری کے بعد عوام میں پیدا ہونے والے خوف کے پیش نظر برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ کسی فوری طور پر آنے والی تباہی کی وارننگ نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو ’الرٹ رہنا ہے، گھبرانا نہیں ہے‘۔ یہ قدم صرف اس لیے اٹھایا گیا ہے، تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں لوگ سرکاری امداد پہنچنے تک محفوظ رہ سکیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔