یوکرینی صدر زیلنسکی کی سیکورٹی میں بڑی لاپروائی، طیارہ سے ڈرون کی ہونے والی تھی ٹکر

ناروے کے وزیر اعظم جوناس گاس اسٹورے نے بدھ کو سرکاری نشریہ این آر کے سے بات چیت میں طیارہ و ڈرون کی ٹکر کے خدشہ سے متعلق تصدیق کی اور کہا کہ یہ یوکرینی صدر کے سفر میں سیکورٹی خطرہ کا مظہر ہے۔

ولودمیر زیلینسکی
i

یوکرین کے صدر ولودمیر زیلنسکی کا طیارہ مالدووا سے ناروے کے لیے پرواز بھرنے کے دوران ایک نامعلوم ڈرون سے ٹکرانے سے بال بال بچ گیا۔ زیلنسکی ناروے کے مرحوم بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے اوسلو جا رہے تھے۔ اسی دوران ان کی سیکورٹی میں یہ سنگین لاپروائی سامنے آئی۔ ناروے کے وزیر اعظم یوناس گار اسٹورے نے بدھ کے روز سرکاری نشریاتی ادارہ این آر کے سے گفتگو میں اس واقعہ کی تصدیق کی اور کہا کہ اس سے یوکرینی صدر کے سفر کے دوران پیدا ہونے والے سیکورٹی خطرے کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔

وزیر اعظم اسٹورے نے این آر کے سے کہا کہ مالدووا سے پرواز بھرنے کے دوران یوکرینی صدر کا طیارہ تقریباً ایک ڈرون کی زد میں آ گیا تھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ یوکرین کے حکام کی جانب سے ابھی تک اس واقعہ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ زیلنسکی منگل کی شام بحفاظت اوسلو پہنچ گئے تھے۔ وہ مالدووا سے روانہ ہو کر بادشاہ ہیرالڈ کی آخری رسومات میں پہنچے جہاں دنیا کے کئی رہنماؤں اور بین الاقوامی شخصیات نے شرکت کی۔ اس سے قبل زیلنسکی نے ناروے کے وزیر اعظم یوناس گار اسٹورے سے ملاقات بھی کی تھی۔


ناروے کے وزیر اعظم کے دفتر میں ریاستی سکریٹری بھانوجا رسیاہ نے این آر کے کو بتایا کہ مالدووا کی فضائی حدود میں ڈرون کا خطرہ تھا۔ اس کے سبب زیلنسکی کی اوسلو جانے والی پرواز میں تاخیر ہوئی۔ ناروے کے وزیر خزانہ جینس اسٹولٹن برگ نے بھی واقعہ کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ اوسلو پہنچنے کے کچھ وقت بعد زیلنسکی نے خود انہیں اس واقعہ کے بارے میں بتایا تھا۔ اسٹولٹن برگ نے کہا کہ ’’انہوں نے کل رات ہماری ملاقات میں ہمیں اس کے بارے میں بتایا۔ میں اس کی تفصیلات میں جانے کی ہمت نہیں کروں گا، لیکن ان کی پرواز میں تاخیر ہوئی تھی اور طیارے کو کچھ خطرات لاحق تھے۔ حالانکہ میرے پاس اتنی معلومات نہیں ہیں کہ میں اس کے بارے میں مزید کچھ بتا سکوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ زیلنسکی کو وہاں سے نکلنے میں کچھ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن یوکرین سے باہر نکلنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود انہوں نے آخری رسومات میں شرکت کے لیے ضروری وقت نکالا اور اپنی طرف سے کوشش بھی کی۔

اسٹولٹن برگ نے کہا کہ سیکورٹی سے متعلق خطرات کے باوجود آخری رسومات میں زیلنسکی کی موجودگی اہم تھی۔ این آر کے کے مطابق انہوں نے کہا کہ بدھ کے روز بادشاہ ہیرالڈ کی آخری رسومات کے دوران یوکرینی صدر کو دنیا کے دوسرے رہنماؤں کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھنا متاثر کن تھا۔ آخری رسومات میں شرکت کے بعد زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مرحوم بادشاہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ یوکرین ہمیشہ ناروے کی جانب سے ملنے والی مدد کے لیے شکر گزار رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تعاون صرف ناروے کی حکومت کی جانب سے نہیں، بلکہ شاہی خاندان اور وہاں کے لوگوں کی طرف سے بھی ملا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔