ایرانی ڈرون کو گرانے میں امریکہ کی مدد یوکرین نے کی تھی، صدر زیلنسکی نے پہلی بار کیا اعتراف
یوکرینی صدر ولودمیر زیلینسکی نے کہا کہ یوکرینی فورسز نے ملک میں تیار اور جنگ میں تجربہ کیے گئے انٹرسپٹر ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے بیرون ممالک میں فعال مہموں میں حصہ لیا۔

یوکرین کے صدر ولودمیر زیلنسکی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران جنگ کے دوران یوکرینی فوج نے مغربی ایشیا کے کئی ممالک میں ایرانی ڈیزائن کے شاہد ڈرونز کو مار گرایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مہم ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت یوکرین اپنے اتحادی ممالک کو ان اسلحوں سے نمٹنے میں مدد دے رہا ہے جنہیں روس اس کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
یوکرینی صدر نے ان کارروائیوں کا اعتراف پہلی بار عوامی طور پر کیا ہے، جنہیں جمعہ تک ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرینی افواج نے ملک میں تیار اور جنگ میں آزمائے گئے انٹرسپٹر ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک فعال مہموں میں حصہ لیا۔ یہ انٹرسپٹر ڈرون یوکرین میں روس کے استعمال کردہ ایران ساختہ ڈرون کا مقابلہ کرنے میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کی وجہ سے یوکرین کو مغربی ممالک کی فوجی مدد کم ہو سکتی ہے۔ تاہم زیلنسکی نے کہا کہ اتحادی ممالک پیٹریاٹ میزائل نظام کے لیے میزائلوں کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں میزائلوں کی ایک نئی کھیپ موصول ہوئی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حالات یوکرین پر دباؤ میں اضافہ کریں گے۔
دوسری طرف روسی صدر ولادمیر پوتن نے یوکرین میں آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر ہفتہ وار 32 گھنٹوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل یوکرین کے صدر زیلنسکی نے بھی اس موقع پر دشمنی روکنے کی اپیل کی تھی۔ کریملن کی جانب سے جاری پوتن کے حکم میں روسی افواج کو ہفتہ کی شام 4 بجے (مقامی وقت کے مطابق) سے اتوار کی شام تک جنگ بندی پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ امید ہے یوکرین بھی اس کی پیروی کرے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔