پیدائشی امریکی شہریت معاملہ میں ٹرمپ نے پھر اختیار کیا سخت رخ، ’سپریم جھٹکا‘ کے باوجود 2 احکامات پر کیے دستخط
رواں سال جون میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی اس سابقہ کوشش کو مسترد کر دیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ میں غیر قانونی یا عارضی طور پر مقیم افراد کے بچے امریکی شہری نہیں ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کی کوششیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس معاملہ میں ٹرمپ نے محدود دائرۂ کار والے 2 نئے صدارتی احکامات پر دستخط بھی کر دیے ہیں۔ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایک بار پھر ان لوگوں کی تعداد محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو امریکہ میں پیدا ہونے پر امریکی شہری بن سکتے ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کی ان کی پہلی کوشش سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کیے جانے کے باوجود وہ دوبارہ اس معاملے پر پیش رفت کے لیے تیار ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ امیگریشن سے متعلق 2 صدارتی احکامات پر دستخط کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک حکم ان لوگوں کی تعداد محدود کرتا ہے جو امریکہ میں پیدا ہونے کے بعد امریکی شہریت کے اہل قرار پاتے ہیں، جبکہ دوسرا حکم ان افراد کو روکنے پر مرکوز ہے جو صرف بچے کی پیدائش کے لیے امریکہ آتے ہیں۔ یہ دونوں احکامات اس طرح ہیں:
نئے حکم کے مطابق بعض مخصوص زمروں کے بچوں کو خود بہ خود امریکی شہریت نہیں ملے گی۔ مثال کے طور پر غیر ملکی سفارت خانوں یا بین الاقوامی اداروں سے وابستہ افراد کے بچے، ’دشمن غیر ملکی‘ قرار دیے جانے والے افراد کے بچے، اور ایسے والدین کے بچے جنہوں نے شہریت حاصل کرنے کے لیے دھوکہ دہی کی ہو۔
ان افراد کے ویزوں پر پابندیاں مزید سخت کی جائیں گی جو صرف بچے کی پیدائش اور اسے امریکی شہریت دلوانے کے مقصد سے امریکہ آتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے ان کے نئے فیصلے آئین کے مطابق ہوں گے، اور اس معاملے کو دوبارہ اٹھانے کی ان کی کوشش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ان کی حکومت امریکی شہریت حاصل کرنے والوں کی تعداد محدود کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’مجھے لگا تھا کہ ہم سپریم کورٹ میں جیت جائیں گے۔ بدقسمتی سے ہمیں ایک برا فیصلہ ملا، بہت غیر منصفانہ فیصلہ۔ اس کی وجہ سے ہمارے ملک کو نقصان پہنچتا ہے اور ہم اسے ایک مختلف طریقے سے ختم کر رہے ہیں۔‘‘
بہرحال، امیگریشن کے حامیوں اور کئی قانونی ماہرین کے مطابق امریکی آئین میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ کن افراد کو شہری تصور کیا جائے گا۔ ان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ پیدائشی شہریت سے امریکہ کو فائدہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے ملک کے مستقبل میں ہر شخص کی برابر کی شراکت یقینی بنتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ رواں سال جون میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی اس سابقہ کوشش کو مسترد کر دیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ میں غیر قانونی یا عارضی طور پر مقیم افراد کے بچے امریکی شہری نہیں ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا تھا، اور اب 2 نئے احکامات پر دستخط کے ذریعہ انھوں نے اپنے فیصلہ کو نئے طریقے سے نافذ کرنے والا قدم اٹھا دیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
