ایران یا تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے یا امریکہ اسے ختم کر دے گا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اپنے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی کئی روز کے لئے جاری آخری رسومات ادا کر رہا ہے۔

ایران کے آنجہانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تہران کو ایک بار پھر دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے پیر کو دو ٹوک الفاظ میں کہا، "یا تو وہ ہمارے ساتھ کوئی معاہدہ کریں یا ہم انہیں ختم کر دیں گے۔" امریکی صدر کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اپنے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کر رہا ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے اصرار کیا کہ وہ کسی بھی طرح سے جیتیں گے۔ انہوں نے کہا، "ہم یا تو معاہدہ کریں گے یا ہم کام ختم کر دیں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو ختم کرنا بہت آسان ہوگا، کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ معاہدہ کرنے کو ترجیح دیں گے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران کے 91 ملین افراد متاثر ہوں لیکن اگر وہ چاہتے تو ایک گھنٹے میں ایران کے تمام پل اور پاور گرڈ تباہ کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایران میں داخل ہوا اور کارروائی صرف اس لیے کی کہ وہ نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا ۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انہوں نے ایرانی بحریہ کے تمام بحری جہاز اور فضائیہ کے طیاروں کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "طاقتور امریکی بحریہ نے اب تک کی سب سے بڑی ناکہ بندی عائد کی، اور دو ماہ تک ایک بھی جہاز ناکہ بندی کو عبور نہیں کر سکا۔ پھر، شاید ہم ایک معاہدے کے قریب تھے، اس لیے ہم نے ناکہ بندی میں نرمی کی۔ مجھے نہیں معلوم، لیکن شاید ہم کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔" ٹرمپ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود تیل کی قیمتیں زیادہ نہیں بڑھیں۔
ایران کے آنجہانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جلوس جنازہ پیر (6 جولائی) کی صبح تہران کے امام حسین اسکوائر سے شروع ہوا۔ جلوس کا آغاز ایران کے قومی ترانے سے ہوا۔ صبح سے ہی ہزاروں لوگ سڑکوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ خامنہ ای کے تابوت کو تہران کے مرکزی راستوں سے لے جایا جائے گا۔ اعلیٰ سرکاری افسران، مذہبی رہنما اور اعلیٰ فوجی افسران بھی موجود تھے۔ ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم اور سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق یہ ایران کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع ہے۔ اس کے بعد جلوس جنازہ تہران سے ہوتا ہوا مقدس شہر قم جائے گا جہاں تدفین کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔
