ٹرمپ کا نیا حکم نامہ، 19 ممالک کے لیے گرین کارڈ پر نظرثانی کا حکم، ہندوستانیوں پر اثر نہیں
وائٹ ہاؤس کے قریب ایک افغان شہری کی جانب سے نیشنل گارڈ کے دو ارکان کو گولی مارنے کے بعد، صدر ٹرمپ نے یو ایس سی آئی ایس کو 19 "تشویش والے ممالک" کے رہائشیوں کے گرین کارڈز کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) کو ہدایت کی ہے کہ وہ 19 ممالک کے مستقل رہائشیوں کے پاس ہر گرین کارڈ کا جامع جائزہ لیں جو پہلے "تشویش کے ممالک" کے طور پر درجہ بند تھے۔یہ حکم واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے دو ارکان کی ہلاکت کے بعدجاری ہوا ہے۔امریکہ نے اس حملے کو "دہشت گردی کی کارروائی" قرار دیا اور تارکین وطن کے بارے میں جانچ میں اضافہ کیا کیونکہ حملہ آور افغان تھا۔
یو ایس سی آئی ایس کی طرف سے جاری کردہ نئی رہنمائی کے تحت، افسران امیگریشن کی حیثیت کا جائزہ لیتے وقت درخواست دہندگان کے اصل ملک کو ایک اہم "منفی عنصر" کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ جائزہ 19 "تشویش کے ممالک" کے تمام مستقل باشندوں پر لاگو ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر ان کے گرین کارڈز کو پہلے کی انتظامیہ کے تحت منظور کیا گیا ہو۔
فہرست میں شامل 19 ممالک میں افغانستان، میانمار، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، یمن، کیوبا اور وینزویلا وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم اس اقدام سے ہندوستانی متاثر نہیں ہوں گے۔ لیکن ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ یہ اقدام امیگریشن کے وسیع تر کریک ڈاؤن کا حصہ ہے اور یہ پالیسی میں اضافی تبدیلیوں کا اشارہ دے سکتا ہے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ 19 متاثرہ ممالک جون کے صدارتی اعلان میں درج فہرست سے مماثل ہیں جن میں داخلے پر مکمل یا جزوی پابندی عائد کی گئی ہے جس میں افغانستان، برما، چاڈ، جمہوریہ کانگو، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، یمن، برونڈی، کیوبا، لاؤس،ٹوگو، ترکمینستان ، سیئرا لیون اور وینزویلا وغیرہ۔
ٹرمپ کی یہ ہدایت واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دستوں کو وائٹ ہاؤس کے قریب ایک افغان شہری کی جانب سے گولی مارنے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ نیشنل گارڈ کے دو ارکان میں سے ایک جمعہ کو اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔
29 سالہ مشتبہ شخص، ایک افغان شہری رحمن اللہ لکنوال، 2021 میں آپریشن’ الائیس ویلکم‘ یعنی ’اتحادی خوش آمدید‘کے ذریعے امریکہ میں داخل ہوا تھا، اور یہ پروگرام جو بائیڈن انتظامیہ کا تھا جس نے ملک سے امریکی انخلاء کے بعد دسیوں ہزار افغانوں کو نکالا اور دوبارہ آباد کیا۔ لکنوال افغانستان میں امریکی اسپیشل فورسز کے ساتھ خدمات انجام دے چکے تھے۔ وہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک افغانستان کی فوج میں سپاہی رہے۔