ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کو دی منظوری، اپنے ملک میں ہی یورینیم کی افزودگی کرنے کی مل سکتی ہے اجازت
رپورٹ کے مطابق جوہری معاہدہ 30 سال کے لیے ہوگا اور اس کی قیمت 10 ارب ڈالر ہوگی۔ اس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے سول نیوکلیئر پروگرام کو تیار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک بڑے سول نیوکلیئر (غیر فوجی جوہری) معاہدے کو منظوری دے دی ہے۔ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو اپنے ملک میں ہی یورینیم کی افزودگی کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ یہ معاہدہ اس لیے بحث کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ امریکہ نے پہلے جن ممالک کے ساتھ جوہری معاہدے کیے تھے، ان میں ایسے سخت حفاظتی قوانین شامل ہوتے تھے جن سے یہ یقینی بنایا جاتا تھا کہ جوہری تکنیک کا استعمال صرف بجلی بنانے اور پرامن کاموں کے لیے ہو، نہ کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے۔ لیکن سعودی عرب کے ساتھ اس معاہدے میں ایسے اہم حفاظتی التزامات شامل نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ 30 سال کے لیے ہوگا اور اس کی قیمت 10 ارب ڈالر ہوگی۔ اس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے سول نیوکلیئر پروگرام کو تیار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس سے دوسرے ممالک کی کمپنیوں کے لیے اس شعبے میں کام کرنے کا امکان کافی کم ہو جائے گا۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ آئندہ چند دنوں میں اس معاہدے کو منظوری کے لیے امریکی کانگریس میں پیش کرے گی۔ اس معاہدے میں ’123 ایگریمنٹ‘ بھی شامل ہے۔ اس پر امریکہ کے وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ طے کرتا ہے کہ امریکہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ جوہری تعاون کس طرح کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب اپنے یہاں یورینیم کی افزودگی کرے گا اور اس پر سخت بین الاقوامی نگرانی نہیں ہوگی تو مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی اپنا جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرے گا۔
’سی این این‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے میں سعودی عرب کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ایڈیشنل پروٹوکول کو اپنانا ضروری نہیں ہوگا۔ یہ پروٹوکول دنیا بھر میں جوہری سرگرمیوں کی سخت نگرانی کے لیے بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کی جگہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان الگ سے ایک دوطرفہ نگرانی کا نظام ہوگا۔ اسی وجہ سے اس معاہدہ کو لے کر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں اس کا اثر عالمی جوہری تحفظ اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں پر پڑ سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
