ہندوستان سمیت کئی ممالک پر 100 فیصد ٹیرف والے بل کو ٹرمپ کی منظوری، دستخط کے بعد بنا قانون
نئے قانون کے تحت ٹرمپ کو روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ قانون صدر کے دستخط کے 30 دن کے اندر نافذ العمل ہوگا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ پر دستخط کر کے اسے قانون بنا دیا ہے۔ اس قانون کے تحت روس پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ ساتھ ہی روس سے تیل اور گیس خریدنے والے بڑے ممالک پر بھی بھاری ٹیرف یعنی درآمدی محصولات عائد کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ ان ممالک میں چین اور ہندوستان بھی شامل ہیں۔ امریکہ فی الحال ہندوستان پر 18 فیصد اور چین پر 34 فیصد ٹیرف عائد کرتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے 18 ستمبر 2026 کو ایچ آر 5334 یعنی ’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ پر دستخط کیے۔ یہ قانون روس اور ایران کے خلاف موجودہ پابندیوں کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔ اس میں روس کے خلاف قانونی پابندیوں، ٹیرف اور دیگر پابندیوں کے دائرے کو وسیع کیا گیا ہے۔ قانون کے تحت ٹرمپ کو روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ قانون صدر کے دستخط کے 30 دن کے اندر نافذ العمل ہوگا۔ اس کے تحت ان ممالک سے آنے والی اشیاء پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے، جو قانون بننے سے قبل کے 12 ماہ کے دوران مجموعی مقدار کے لحاظ سے روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے 5 بڑے خریداروں میں شامل رہے ہیں۔ حالانکہ قانون ٹرمپ کو اس کے نفاذ کے حوالے سے وسیع اختیارات دیتا ہے۔ وہ طے کر سکتے ہیں کہ کن ممالک پر ٹیرف عائد کیا جائے، ٹیرف کی شرح کتنی ہو اور پابندیوں کی دفعات میں چھوٹ دی جائے یا نہیں۔
اس سے قبل امریکی ایوان نمائندگان نے بدھ کے روز یہ قانون منظور کیا تھا۔ تجویز کو 214 کے مقابلے میں 211 ووٹوں سے منظوری ملی تھی۔ قانون میں روسی قیادت اور اس کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ماسکو کی دفاعی صنعت سے وابستہ معاونین اور روس کے مبینہ ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف بھی کارروائی کا التزام ہے۔ روس سے گیس خریدنے والے بعض ممالک کو ٹیرف سے چھوٹ دی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ مدت کے دوران اس ملک کی جانب سے روسی گیس کی درآمد، روس کی مجموعی گیس برآمدات کے 15 فیصد سے کم ہو اور اس ملک نے روسی گیس کی درآمد کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہوں۔ قانون میں روس کے ’شیڈو فلیٹ‘ اور روس کی توانائی کی پیداوار یا پابندیوں سے بچنے میں مدد کرنے والے غیر ملکی افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں جہازوں کے مالکان، آپریٹرز، مینیجرز، بیمہ کنندگان اور دیگر متعلقہ فریق شامل ہیں۔
