ایران کے ساتھ 60 روزہ ’میمورینڈم آف انڈراسٹینڈنگ‘ پر ٹرمپ کا اتفاق، عارضی معاہدہ میں 5 اہم نکات شامل
گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو لے کر شدید تناؤ جاری تھا۔ ایران نے اس اہم بحری راستے کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی، جبکہ امریکہ نے بندر عباس سمیت کئی مقامات پر حملے کیے تھے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ایک اہم مفاہمتی یادداشت (میمورینڈم آف انڈاسٹینڈنگ) پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ 60 دنوں پر مشتمل ایک عارضی معاہدہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں استحکام برقرار رکھنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ تاہم ماہرین اسے مستقل حل کے بجائے ایک وقتی بندوبست قرار دے رہے ہیں۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو لے کر شدید تناؤ جاری تھا۔ ایران نے اس اہم بحری راستے کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی، جبکہ امریکہ نے بندر عباس سمیت کئی مقامات پر حملے کیے تھے۔ اس دوران پاکستان کی ثالثی کی کوششیں بھی ناکام رہیں۔ ایسے میں ٹرمپ انتظامیہ نے اچانک ایران کے ساتھ مذاکرات تیز کیے اور 60 دن کے لیے ایک عارضی مفاہمتی معاہدے پر اتفاق ہو گیا۔ ٹرمپ نے اسے ’اچھی شروعات‘ قرار دیا، جبکہ ایران نے اسے امریکی دباؤ کے تحت کیا گیا مجبوری والا سمجھوتہ بتایا ہے۔
اس عارضی معاہدے میں بنیادی طور پر 5 اہم نکات کیے گئے ہیں، جو اس طرح ہیں:
1. آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا:
ایران 60 دنوں تک آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرے گا اور وہاں سے تیل و گیس کی معمول کی تجارت جاری رہے گی۔ اس کے بدلے امریکہ نے ایران پر عائد بعض فوری پابندیوں میں نرمی کا وعدہ کیا ہے۔
2. ڈرون اور میزائل حملوں پر روک:
دونوں ممالک 60 دنوں تک ایک دوسرے پر ڈرون یا میزائل حملے نہیں کریں گے۔ اس دوران ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) اور امریکی فوج کے درمیان براہ راست تصادم سے گریز کیا جائے گا۔
3. جوہری پروگرام پر بات چیت:
ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں مزید شفافیت لانے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو زیادہ رسائی دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکہ نے مکمل جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کی بحالی کی سمت میں پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔
4. علاقائی کشیدگی کم کرنا:
ایران نے اپنے حمایت یافتہ گروہوں، جیسے حزب اللہ اور حوثیوں، کو امریکی اڈوں پر حملے نہ کرنے کی ہدایت دینے کا وعدہ کیا ہے۔
5. تیل کی برآمدات میں اضافہ:
ایران کو محدود مقدار میں تیل برآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی، تاکہ اس کی معیشت کو فوری راحت مل سکے۔
بہرحال، ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ زیادہ دیر تک قائم رہنے والا نہیں ہے۔ صرف 60 دنوں کی مدت اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ دونوں فریق مستقل معاہدے کے لیے مزید وقت حاصل کر سکیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اندرونی اور عالمی دباؤ کے تحت جلد بازی میں یہ معاہدہ کر رہی ہے، اسی لیے اسے ’جگاڑو ڈیل‘ کہا جا رہا ہے۔
ایران کی معیشت سخت اقتصادی پابندیوں سے متاثر ہے، جبکہ امریکہ آبنائے ہرمز میں کسی بڑی جنگ سے بچنا چاہتا ہے۔ دونوں فریقوں کی مجبوریوں نے اس عارضی معاہدے کو جنم دیا ہے۔ یہ معاہدہ ہندوستان کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ملک کی 80 فیصد سے زیادہ تیل کی ضرورت خلیجی خطے سے پوری ہوتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ اس 60 روزہ معاہدے سے ہندوستان کو وقتی راحت ملے گی، لیکن اگر مستقل حل نہ نکلا تو مستقبل میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔ ہندوستان امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے، اسی لیے وہ اس معاہدے کا خیر مقدم کر رہا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے 60 دنوں میں دونوں ممالک مکمل اور مستقل معاہدے پر بات چیت کریں گے۔ امریکہ جوہری معاملے پر سخت مؤقف اختیار کر سکتا ہے، جبکہ ایران خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ اگر یہ معاہدہ کامیاب رہا تو مشرق وسطیٰ میں کچھ حد تک استحکام آ سکتا ہے، لیکن اگر ناکام ہوا تو ایک بار پھر بڑے تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی یہ پیش قدمی ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایک بڑے تنازعہ سے بچنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ایران پر دباؤ بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
