بوسنیا میں دردناک ہیلی کاپٹر حادثہ، یوروپی یونین کے ’امن فوج‘ سے منسلک 4 افراد ہلاک، دیگر 11 زخمی
حادثہ بوسنیا کے شمالی حصے میں واقع برچکو علاقے میں پیش آیا۔ یہ مقام ملک کی راجدھانی سراجیوو سے تقریباً 180 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

یورپی یونین کی بوسنیا میں تعینات امن فوج یعنی ’ای یو ایف او آر‘ (EUFOR) کے ساتھ کام کرنے والے اٹلی کے فوجی ہیلی کاپٹر ’چنوک سی ایچ-47‘ کے حادثے کا شکار ہونے کی خبر ہے۔ اس دردناک حادثہ میں 4 لوگوں کی موت ہو گئی، جبکہ 11 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ حادثہ 29 اکتوبر کو ایک معمول کے تربیتی سیشن کے دوران پیش آیا۔ ہیلی کاپٹر میں مجموعی طور پر 15 افراد سوار بتائے جا رہے ہیں، جن میں سے 3 کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
یہ حادثہ بوسنیا کے شمالی حصے میں واقع برچکو علاقے میں پیش آیا۔ یہ مقام ملک کی راجدھانی سراجیوو سے تقریباً 180 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ مقامی اسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ان کا علاج شروع کر دیا گیا۔ برچکو اسپتال کے ترجمان صالح ابراہیم بیگووچ نے بتایا کہ حادثہ میں 3 لوگوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی تھی، جبکہ ایک دیگر شخص نے اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑ دیا۔ اٹلی کی وزارت دفاع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 2 فوجی اور ریڈ کراس کے 2 رضاکار شامل تھے۔
ہیلی کاپٹر حادثہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ’ایکس‘ پر شیئر کی گئی ویڈیو میں ہیلی کاپٹر کو ہوا میں گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ تیزی سے نیچے گرتا ہے اور گھاس کے ایک میدان میں حادثہ کا شکار ہو جاتا ہے۔ مقامی میڈیا کی تصاویر میں ہیلی کاپٹر کا ملبہ نظر آیا، جو بری طرح تباہ ہو چکا تھا۔ حادثہ میں زخمی ہونے والے تمام 11 لوگوں کو برچکو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ ان میں سے 3 زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے تقریباً 50 کلومیٹر دور واقع توزلا کے اسپتال منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ ضروری یہی ہے۔‘‘
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار کیوں ہوا۔ یورپی یونین کی امن فوج نے حادثے کی مکمل اور گہرائی سے جانچ شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معلومات کی تصدیق کے بعد ہی مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔ ای یو ایف او آر نے یہ بھی واضح کیا کہ اس حادثہ میں کسی شہری کو چوٹ نہیں آئی۔ اس کے علاوہ شہریوں کی عمارتوں، املاک اور گاڑیوں کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اٹلی کے وزیر دفاع گائیڈو کروسیٹو نے حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ اور امن مشن سے وابستہ لوگوں کے تئیں اپنے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
