’امن بھی چاہتے ہیں اور ’بڑی چمک‘ کو تجویز کردہ حل بھی قرار دیتے ہیں‘، ڈونالڈ ٹرمپ کی جوہری دھمکی پر ایران کا طنز

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ ’’اگر کوئی جنگ بندی نہیں ہوتی ہے تو آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ آپ کو بس ایران سے نکلتی ایک بڑی چمک دیکھنے کو ملے گی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>امریکہ-ایران جنگ، قومی آواز گرافکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جوہری دھمکی پر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جوابی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی دھمکی کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مذاق اڑایا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہیں ہوا اور کشیدگی میں اضافہ ہوا تو آپ کو ’بڑی چمک‘ دیکھنے کو ملے گی۔ وزات خارجہ کے ترجمان بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’یہ ایک عجیب بات ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں اور جوہری بحران کو روکنا چاہتے ہیں، پھر بھی ان کا تجویز کردہ حل ایک بڑی چمک ہے۔‘‘

اسماعیل بقائی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ڈائریکٹر اسٹینلی کوبرک کی 1964 کی امریکی فلم ’ڈاکٹر اسٹرینج لو یا: ہاؤ آئی لرنڈ ٹو اسٹاپ ورینگ اینڈ لو دی بم‘ کی ایک کلپ بھی شیئر کی۔ دراصل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ ’’اگر کوئی جنگ بندی نہیں ہوتی ہے تو آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ آپ کو بس ایران سے نکلتی ایک بڑی چمک دیکھنے کو ملے گی۔‘‘ ٹرمپ کے اس ’ایک بڑی چمک‘ والی بات کو جوہری دھمکی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


میڈیا سے بات چیت کے دوران ٹرمپ نے الٹی میٹم دیا کہ انہیں جلد از جلد معاہدہ پر دستخط کر دینا چاہیے۔ اگر وہ دستخط نہیں کرتے ہیں تو انہیں بہت تکلیف ہوگی۔ امریکی صدر کو امید ہے کہ امریکہ نے ایران کو جو تجویز بھیجی ہے، اس پر آج رات کو تہران کی جانب سے پیغام آ سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں مرین وَن میں سوار ہونے سے قبل ٹرمپ نے میڈیا سے کہا کہ ’’مجھے آج رات ایک لیٹر ملنے والا ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تہران جان بوجھ کر اس عمل کو سست کر رہا ہے، تو انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں جلد ہی معلوم چل جائے گا۔‘‘ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اگر بات چیت میں رکاوٹ آتی ہے تو واشنگٹن اپنا موقف مزید سخت کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا تو ہم دوسرا راستہ اختیار کریں گے۔ اگر بات نہ بنی تو ہم ’پروجیکٹ فریڈم‘ پر واپس آ سکتے ہیں، لیکن یہ ’پروجیکٹ فریڈم پلس‘ ہوگا۔ مطلب پرجیکٹ فریڈم پلس میں دوسری چیزیں بھی ہوں گی۔‘‘

دوسری جانب ایران کے سنٹرل انشورنس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ-اسرائیل کے ساتھ جنگ میں خراب ہوئی گاڑیوں کے پیمنٹ کے لیے جلد ہی پیسے دیے جائیں گے۔ سنٹرل انشورنس کمپنی اور انشورنس کے افسران نے اندازہ لگایا ہے کہ تقریباً 30 ہزار کار کو نقصان پہنچا ہے۔ افسران کے مطابق حالیہ ہفتوں میں 30 ملین ٹومن (387 ڈالر) سے کم کے نقصان کا پیمنٹ کیا گیا ہے اور کہا کہ اس سے زیادہ نقصان کے معاملات پر جلد ہی کاررائی کی جائے گی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔