ٹرمپ نے کہا کہ ابھی ایران پر حملہ نہیں ہوگا کیونکہ ایران کے ساتھ بامعنی مذاکرات جاری ہیں

ایران کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے ساتھ بامعنی مذاکرات جاری ہیں۔ افزودگی پر ایران نے کہا ہے کہ وہ  پرامن صنعت کا ایک لازمی حصہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ بامعنی بات چیت میں مصروف ہیں، وہ سب پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگرچہ ایران کی صورت حال اقتصادی اور فوجی دونوں لحاظ سے مخدوش ہے، اور ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہنے کے باوجود گزشتہ رات ہی آبنائے ہرمز سے ریکارڈ مقدار میں تیل بہہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔"

کانگریس کی ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں اس ہفتے اپ ڈیٹ کیا گیا ہے جس میں درج ہے کہ ایران کی جنگ میں کم از کم 82 امریکی فوجی طیارے اور ڈرون  تباہ ہوئے ہیں۔ تباہ ہونے والے طیاروں میں امریکی فوج کی جانب سے عوامی سطح پر تسلیم کیے جانے والے طیاروں کے علاوہ درجنوں ڈرونز بھی شامل ہیں جن کے بارے میں فوج نے کوئی بھی معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔


ادھر ایران کے جوہری سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود تہران یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے افزودگی کو ایران کی پرامن صنعت کا ایک لازمی حصہ قرار دیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیاں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔