آبنائے ہرمز بنا میدانِ جنگ! امریکی حملہ کے بعد ایران نے مچایا غدر، آئی آر جی سی نے 10 جہازوں کو نشانہ بنانے کا کیا دعویٰ

آئی آر جی سی نے کہا کہ اس کی فورسز نے ان 10 جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جو آبنائے ہرمز کے ایک ’ممنوعہ اور غیر محفوظ‘ علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز میں امریکی جہاز پر ایرانی میزائل کا حملہ، ویڈیو گریب</p></div>
i

ایران اور امریکہ کے درمیان خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران کے اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ہی دن میں 10 جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں 2 امریکی جہاز اور 8 تیل ٹینکرز شامل ہیں۔ یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے 5 ایرانی تیل ٹینکرز پر کیے گئے حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ یعنی آبنائے ہرمز ایک بار پھر میدانِ جنگ میں تبدیل ہو گیا ہے۔

آئی آر جی سی نے کہا کہ اس کی فورسز نے ان 10 جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جو آبنائے ہرمز کے ایک ’ممنوعہ اور غیر محفوظ‘ علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم، ایران کے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس درمیان ایران نے خلیج کے دیگر ممالک میں موجود تیل ٹینکرز کو بھی وارننگ دی ہے۔ آئی آر جی سی کی بحریہ نے کویت، اردن اور بحرین کی بندرگاہوں میں موجود تمام ٹینکرز کے عملوں کو فوری طور پر جہاز خالی کرنے کو کہا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی پر پڑھے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جن بندرگاہوں یا لنگر انداز ہونے والی جگہوں پر امریکی موجودگی ہے اور جو امریکی کارروائی میں تعاون کر رہے ہیں، وہاں موجود ٹینکرز کو نشانہ بنایا جائے گا۔


اس سے قبل امریکی سنٹرل کمانڈ یعنی سینٹ کام نے 5 ایرانی خام تیل بردار جہازوں کو تباہ کرنے کی اطلاع دی تھی۔ امریکہ کے مطابق آئی آر جی سی نے گزشتہ 2 دنوں میں ایک امریکی بحری جنگی جہاز کو 2 مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ امریکی جنگی جہاز دونوں حملوں سے بچ گیا اور علاقائی پانیوں میں گشت کرتا رہا۔ امریکہ نے اس واقعہ میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہ پہنچنے کی اطلاع بھی دی۔

جہاں تک ایرانی تیل ٹینکرز پر امریکی حملوں کا سوال ہے، سینٹ کام کے مطابق ایم/ٹی کاوش، ایم/ٹی چارمینار، ایم/ٹی ہوریژن، ایم/ٹی ریسکو کو خلیج عمان میں، جبکہ ایم ٹی دیریا کو خارگ جزیرے کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج نے حملہ سے قبل جہازوں کے عملوں کو انہیں چھوڑنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ امریکہ نے 5 ستمبر کو بھی 3 ایرانی خام تیل بردار جہازوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب آئی آر جی سی نے ایک امریکی ایئرکرافٹ کیریئر اور گائیڈیڈ میزائل ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی جہازوں کے خلاف آئی آر جی سی کے تمام حملے ناکام رہے۔


اس درمیان ایران نے ایک امریکی اَنڈر واٹر ڈرون کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے جواب میں پینٹاگون نے کہا کہ پانی کے اندر چلنے والا ڈرون کچھ روز قبل ہی خراب ہو گیا تھا۔ ایک امریکی افسر کے مطابق یہ پرانا ماڈل تھا، جو علاقائی پانیوں کی نگرانی کر رہا تھا اور اس میں حساس ڈاٹا یا کوئی خفیہ سونار یا رڈار والے آلات موجود نہیں تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔