’انتخاب میں دھاندلی ہوئی، میں برازیل کا اصل لیڈر ہوں‘، فلاویو بولسونارو کے سوشل میڈیا پوسٹ سے بڑھی ہلچل

فلاویو بولسونارو نے ’ایکس‘ پر ایک کھلا خط جاری کیا، جس میں انہوں نے پہلے خود کو منتخب صدر بتایا، پھر بعد میں یہ پوسٹ ہٹا دی اور ایک نیا خط جاری کر خود کو برازیل کا اصل لیڈر قرار دیا۔

<div class="paragraphs"><p>فلاویو بولسونارو، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

برازیل کے سینیٹر فلاویو بولسونارو امریکہ کے شہر میامی پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر خود کو برازیل کا اصل لیڈر قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی سپریم کورٹ اور صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے انتخابات میں دھاندلی کر کے انہیں اقتدار سے دور رکھا۔ حالانکہ لولا نے انتخابات میں تقریباً 45 لاکھ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ فلاویو نے سپریم کورٹ کے اس حکم کو بھی نہیں مانا، جس میں انہیں اپنا پاسپورٹ جمع کرانے کے لیے کہا گیا تھا۔ انہوں نے امریکہ پہنچنے میں مدد کرنے پر ارجنٹائنا کے صدر جیویئر میلی کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے فلاویو اور ان کے کنبے کو امریکہ آنے کے لیے ویزا دیا۔

فلاویو بولسونارو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک کھلا خط جاری کیا، جس میں انہوں نے پہلے خود کو منتخب صدر بتایا، پھر بعد میں انہوں نے یہ پوسٹ ہٹا دی اور ایک نیا خط جاری کیا۔ اس میں انہوں نے خود کو برازیل کا اصل لیڈر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے 6 کروڑ حامیوں اور پورے برازیل کو جاننا چاہیے کہ وہی ملک کے لیڈر ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹ چوری کرنے والے لوگ ایک مجرمانہ تنظیم کا حصہ ہیں، جس نے ملک میں تاناشاہی قائم کی ہے۔ حالانکہ برازیل کی وفاقی انتخابی عدالت، کئی ممالک کے لیڈران، بین الاقوامی مبصرین اور خود فلاویو کی پارٹی نے لولا کی جیت کو تسلیم کیا ہے۔ انتخابی کمیشن کے سربراہ کاسیو نونیس مارکیز نے بھی کہا کہ انتخابات قانون اور آئین کے ضابطوں کے مطابق ہوئے تھے۔


اس درمیان امریکی صدر ٹرمپ نے فلاویو بولسونارو کے بیان پر کچھ کہنے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ وہ اس سے قبل برازیل کے انتخابات کو انتہائی عجیب و غریب قرار دے چکے ہیں۔ فلاویو نے انتخابات میں دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں دیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ لولا کی حمایت والے سپریم کورٹ کے ایک جج نے ووٹنگ کا وقت 2 گھنٹے بڑھا دیا تھا۔ لولا کی پارٹی نے شمال مشرقی ریاستوں میں ووٹروں کو ووٹنگ سے روکنے کی شکایت کی تھی۔ دوسری جانب فلاویو کی پارٹی نے بھی بارش کی وجہ سے جنوبی ریاستوں میں ووٹنگ کا وقت بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ انسپر کے پروفیسر پیدرو برگوس کے تجزیے کے مطابق اضافی 2 گھنٹوں میں 35 ہزار سے کم ووٹ ڈالے گئے۔ یہ کل ووٹوں کا تقریباً 0.03 فیصد تھا۔

ماہرین کے مطابق انتخابات منسوخ کرانے کا فلاویو کا مطالبہ کامیاب ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ فلاویو نے کہا کہ وہ برازیل سے فرار نہیں ہوئے، بلکہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے ملک چھوڑ کر گئے ہیں۔ انہوں نے لولا اور سپریم کورٹ پر انہیں نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ ان کے والد اور سابق صدر ژائر بولسونارو بھی 2022 میں لولا سے ہارنے کے بعد امریکہ گئے تھے۔ بعد میں برازیل واپس آنے پر انہیں بغاوت کی سازش کے معاملے میں 27 برس قید کی سزا سنائی گئی۔ بہرحال، اس تنازعہ سے امریکہ اور برازیل کے تعلقات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ برازیل کے پاس دنیا میں نایاب معدنیات کا دوسرا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ لولا نے امریکہ پر بولسونارو کے کنبے کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔ امریکی حکومت نے برازیل کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے سے انکار کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔