ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پھر بڑھی، رڈار ٹھکانوں پر بمباری سے تہران چراغ پا
امریکی فوج کا ماننا ہے کہ ایران کے 4 ڈرون علاقے میں سمندری جہازوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ اس کے بعد امریکہ نے ایران کے نگرانی ٹھکانوں پر حملہ کیا۔

امریکہ نے ہفتہ کے روز ایران کے ساحلی علاقے میں موجود رڈار تنصیبات پر حملہ کر دیا جس نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں حالات کشیدہ بنا دیے ہیں۔ اس سے قبل امریکہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی طرف بھیجے گئے ایک ڈرون کو مار گرایا تھا۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں مزید دشوار ہو سکتی ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ امریکی فوج کا ماننا ہے کہ ایران کے 4 ڈرون علاقے میں بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ اس کے بعد امریکہ نے ایران کی نگرانی کی تنصیبات، جن میں گورُک اور جزیرہ قشم شامل ہیں، پر حملہ کیا۔ یہ دونوں مقامات آبنائے ہرمز کے انتہائی قریب واقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائی کو 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بار بار خلاف ورزیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ کشیدگی کم کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اپنی غیر قانونی کارروائیوں اور کشیدگی میں اضافے کی صورت حال کا خود ذمہ دار ہوگا۔ آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ 4 ٹینکروں پر بھی فائرنگ کی گئی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ٹینکر بغیر اجازت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس درمیان کویت کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے 7 بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا جو صبح سویرے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ یہ کئی رہائشی علاقوں کے اوپر سے بھی گزرے، جس کے نتیجے میں کچھ ملبہ ان علاقوں میں گرا۔ فوج کے مطابق ایرانی حملے سے املاک کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دوسری طرف خبریں ہیں کہ پاکستان کے ایک وزیر ایران کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ کویت اور بحرین نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ ان ممالک نے ایران کی کارروائیوں کو کھلا حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے شہریوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کو اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا تھا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
