ایران-امریکہ جنگ کے دوران سوئٹزرلینڈ کا اہم فیصلہ، امریکی فوجی طیاروں کے لیے بند کر دی اپنی فضائی حدود

سوئٹزرلینڈ نے واضح کیا ہے کہ انسانی ہمدردی یا طبی امداد سے وابستہ پروازوں کو اجازت ملتی رہے گی۔ جیسے زخمیوں کو لے جانے والی پروازیں یا امدادی کاموں سے جڑے طیارے سوئس فضائی حدود کا استعمال کر سکتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی فوجی </p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران اور اسرائیل-امریکہ جنگ کے درمیان سوئٹزرلینڈ نے بڑا فیصلے لیتے ہوئے اپنی فضائی حدود کا استعمال امریکی فوجی طیاروں کے لیے محدود کر دیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ حکومت نے کہا ہے کہ اس کی پرانی پالیسی غیر جانبدار رہنے کی ہے، اس لیے جنگ سے منسلک امریکی طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے ہفتہ (14 مارچ) کو جاری بیان میں بتایا کہ امریکہ کے 2 جاسوسی طیاروں کو 15 مارچ کو سوئٹزر لینڈ کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ افسران کے مطابق یہ پروازیں براہ راست ایران کے ساتھ جاری جنگ سے جڑی تھیں، اس لیے انہیں منظوری نہیں دی گئی۔

حالانکہ سوئس حکومت نے 3 دیگر امریکی پروازوں کو اجازت دے دی ہے۔ ان میں 15 مارچ کو 2 ٹرانسپورٹ طیارہ اور 17 مارچ کو مینٹیننس سے متعلق ایک پرواز شامل ہے۔ یہ فیصلہ سوئس فیڈرل کونسل نے کئی درخواستوں کے جائزے کے بعد لیا۔ یہ درخواستیں فیڈرل آفس آف سول ایوی ایشن کے پاس آئے تھے، جو اس طرح کی سفارتی اجازتوں سے متعلق معاملات دیکھتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے واضح کیا ہے کہ انسانی ہمدردی یا طبی امداد سے وابستہ پروازوں کو اجازت ملتی رہے گی۔ جیسے زخمیوں کو لے جانے والی پروازیں یا امدادی کاموں سے جڑے طیارے سوئس فضائی حدود کا استعمال کر سکتے ہیں۔


واضح رہے کہ سوئٹزلینڈ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور اسرائیل-امریہ کے درمیان جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوا تھا، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں اب تک 2000 سے زائد لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جن میں زیادہ تر لوگ ایران کے ہیں۔ اس جنگ کا اثر دنیا کی تیل سپلائی پر بھی پڑ رہا ہے۔ اسی درمیان ڈونالڈ ٹرمپ نے خلیجی خطے سے تیل لینے والے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے اپنی بحری افواج بھیجیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکہ کے ’جزیرہ خارگ‘ پر حملے کے بعد جوابی کارروائی کی وارننگ دی تھی اور آبنائے ہرمز کے آس پاس کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔