سوئٹزرلینڈ نے امریکہ کو ہتھیار دینے سے کیا انکار، سیاسی تنازعات میں غیر جانبدار رہنے کا دیا حوالہ

اس سے قبل بھی 2003 میں امریکہ کی قیادت میں عراق پر ہونے والے حملے کے بعد سوئٹزرلینڈ نے سوئس فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں اور جنگ میں شامل ممالک کو ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی لگا دی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران سوئٹزرلینڈ نے امریکہ کو ہتھیاروں کی برآمد پر روک لگا دی ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے سیاسی تنازعات میں غیر جانبدار رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہتھیاروں کی برآمد کو تب تک منظوری نہیں دیں گے جب تک مغربی ایشیا میں جنگ جاری ہے۔ اس فیصلے سے امریکہ کو ہتھیاروں کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ نے پہلے بھی اپنی غیر جانبداری کی وجہ سےٖ عراق جنگ کے دوران امریکہ کو اسلحے کی برآمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔

سوئٹزرلینڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ممالک کو جنگ کے دوران ہتھیاروں کی برآمد کا لائسنس جاری نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ کو بھی فی الحال جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی برآمد کی منظوری نہیں دی جا سکتی۔ واضح رہے کہ 2003 میں امریکہ کی قیادت میں عراق پر ہونے والے حملے کے بعد سوئٹزرلینڈ نے سوئس فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں اور جنگ میں شامل ممالک کو ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی لگا دی تھی۔ بعد میں اس نے یہ پابندیاں ہٹا لی تھیں۔


سوئٹزرلینڈ حکومت نے جمعہ (20 مارچ) کو بتایا کہ 28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے بعد سے امریکہ کو اسلحے کی برآمد کے لیے کوئی نیا لائسنس جاری نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت نے کہا کہ دفاعی شعبہ سے وابستہ ماہرین کا گروپ امریکہ کو اسلحے کی برآمد سے متعلق صورتحال کا جائزہ لے گا۔ ساتھ ہی اس بات کا اندازہ بھی لگایا جانا ہے کہ غیر جانبداری کے قانون کے تحت کوئی قدم اٹھانے کی کی ضرورت ہے یا نہیں۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکہ اب بڑا قدم اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ٹرمپ حکومت ایران پر دباؤ بنانے کے لیے اس کے ’جزیرہ خارگ‘ پر قبضہ کرنے یا وہاں سمندری ناکہ بندی کرنے کے منصوبے پر غور و خوض کر رہی ہے۔ اس منصوبہ کے تحت تقریباً 2500 ’میرین فوجیوں‘ کا ایک دستہ جلد ہی علاقے میں پہنچنے والا ہے۔ جزیرہ خارگ ایران کے ساحل سے تقریباً 15 میل دور ہے، جہاں سے ایران کا تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ اگر اس جزیرہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا جائے یا یہاں دباؤ بڑھایا جائے تو ایران کو ’آبنائے ہرمز‘ کھولنے کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں پٹرول-ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی میڈیا ’ایکسیوس‘ کے مطابق امریکہ فوری طور پر ’جزیرہ خارگ‘ پر قبضہ نہیں کرے گا۔ پہلے وہ ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے آئندہ تقریباً ایک ماہ تک فضائی حملے جاری رکھے جا سکتے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے ’جزیرہ خارگ‘ پر کئی بڑے فضائی حملے بھی کیے ہیں تاکہ ایران کو وارننگ دی جا سکے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق 2500 فوجیوں کے علاوہ 2 مزید ’میرین یونٹس‘ بھی اس خطے کی طرف بڑھ رہی ہیں، جن میں سے ہر ایک میں تقریباً اتنے ہی جوان ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس اور پنٹاگن مزید فوج بھیجنے پر بھی غور کر رہے ہیں لیکن اس بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔