جاپان میں زلزلے کے تیز جھٹکے، ریکٹر اسکیل پر شدت 6.0 ریکارڈ کی گئی
زلزلے کا مرکز جاپان کے شیما سے 58 کلومیٹر جنوب-جنوب مشرق میں واقع تھا۔ فی الحال زلزلے کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات کے بارے میں کوئی واضح اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

جاپان میں اتوار کی صبح زلزلے کے تیز جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.0 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلہ یکم نومبر کو صبح 3 بج کر45 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز جاپان کے شیما سے 58 کلومیٹر جنوب-جنوب مشرق میں واقع تھا۔ فی الحال زلزلے کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات کے بارے میں کوئی واضح اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
اس سے قبل 25 اکتوبر کو بھی جاپان میں زلزلہ آیا تھا، اور ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت6.3 ریکارڈ کی گئی تھی۔ بونین جزائر جاپان کے بحرالکاہل کے علاقے میں واقع ہے۔ اس خطے میں زلزلے کی سرگرمیاں مسلسل ہوتی رہتی ہیں، کیونکہ جاپان بحرالکاہل کے اس حصے میں واقع ہے، جہاں کئی ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں زلزلے آتے رہتے ہیں۔
زمین کی بالائی سطح کئی بڑی اور چھوٹی پلیٹوں میں تقسیم ہے۔ یہ پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں، لیکن ان کی رفتار بہت سست ہوتی ہے۔ جب یہ پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں یا ایک دوسرے سے رگڑ کھاتی ہیں تو ان میں شدید دباؤ اور توانائی پیدا ہوتی ہے۔ جب یہ توانائی اچانک خارج ہوتی ہے تو زمین لرزنے لگتی ہے۔ واضح رہے کہ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر ناپی جاتی ہے۔ 7.0 یا اس سے زیادہ شدت کے زلزلے کو عام طور پر کافی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔4.5 یا اس سے زیادہ شدت کا زلزلہ عمارتوں اور گھروں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہیں2.0 یا اس سے کم شدت کے زلزلے کو مائیکرو زلزلہ کہا جاتا ہے، جسے بہت سے لوگ محسوس بھی نہیں کر پاتے۔
زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کے بعد مقامی لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا، حالانکہ اطمینان کی بات یہ ہے کہ ابتدائی اطلاع کے مطابق افسران کی جانب سے سونامی کا کوئی انتباہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ فی الحال اس شدید زلزلے کے سبب کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ مقامی انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھ رہی ہے۔
