’ہم نے امریکی جنگی طیاروں کو سری لنکا آنے کی اجازت نہیں دی‘، سری لنکائی صدر کا پارلیمنٹ میں بیان

سری لنکا کے صدر انورا کمارا دسانائیکے نے کہا کہ ’’جبوتی میں واقع امریکی بیس سے 2 جنگی طیاروں نے 4 اور 8 مارچ کو سری لنکا آنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن دونوں درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>دسانائیکے، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

سری لنکا کے صدر انورا کمارا دسانائیکے نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت نے مارچ کی شروعات میں امریکہ کے 2 جنگی طیاروں کو ملک کے جنوب مشرق میں واقع ’متالا انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دسانائیکے نے کہا کہ ’’جبوتی میں واقع امریکی بیس سے 2 جنگی طیاروں نے 4 اور 8 مارچ کو سری لنکا آنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن دونوں درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔‘‘

انورا کمارا دسانائیکے نے مزید کہا کہ ’’ہم کئی طرح کے دباؤں کے باوجود اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم جھکیں گے نہیں۔ مغربی ایشیا کی جنگ چیلنجز پیدا کر رہی ہے، لیکن ہم غیر جانبدار رہنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’وہ جبوتی میں واقع ایئر بیس سے 8 اینٹی شپ میزائلوں سے لیس 2 جنگی طیاروں کو متالا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لانا چاہتے تھے، لیکن ہم نے منع کر دیا۔‘‘


واضح رہے کہ سری لنکا کے صدر کا یہ بیان جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی خصوصی ایلچی سرجیو گور سے ان کی ملاقات کے ایک دن بعد آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اہم سمندری راستوں کی حفاظت، بندرگاہوں کو محفوظ بنانے، باہمی طور پر فائدہ مند تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور آزاد، کھلے اور خوشحال ہند-بحر الکاہل خطے کو آگے بڑھانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

قابل ذکر ہے کہ 4 مارچ کو امریکہ نے سری لنکا کے جنوبی ساحلی شہر گالے کے قریب ایران کے بحری جہاز ’آئی آر آئی ایس ڈینا‘ کو نشانہ بنایا، جس میں 84 عملے ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ 32 کو بچا لیا گیا تھا۔ یہ جہاز ہندوستان کے شہر وشاکھاپٹنم میں منعقدہ ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو‘ میں شرکت کے بعد وطن واپس جا رہا تھا۔ 2 روز بعد ایران کا ایک اور بحری جہاز ’آئی آر آئی ایس بوشہر‘ 219 عملے کے ساتھ کولمبو بندرگاہ میں داخلے کی اجازت چاہتا تھا۔ سری لنکا نے اسے کولمبو کے ساحل سے باہر لنگر انداز ہونے کے بعد مشرقی بندرگاہ ترنکومالی کی طرف جانے کو کہا۔ جہاز کے 204 عملے کے اراکین کو فی الحال کولمبو کے قریب ایک بحری تنصیب میں ٹھہرایا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔