امریکہ میں اسنیپ چیٹ پر مقدمہ، بچی کی عصمت دری معاملے میں خاندان نے کمپنی کو ٹھہرایا ذمہ دار

مقدمہ میں کہا گیا گیا ہے کہ اسنیپ چیٹ نے اپنی ایپ کے خطرناک فیچرز کو بند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کمپنی نے والدین کو ان خطرات کے بارے میں بھی آگاہ نہیں کیا جو اس ایپ کے استعمال سے ہوسکتے ہیں۔

اسنیپ چیٹ، تصویر آئی اے این ایس
i

امریکی ریاست میسوری میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک بچی کے والدین نے سوشل میڈیا کمپنی ’اسنیپ‘ اور ایک جرائم پیشہ کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ معاملہ 12 سال کی بچی کے ساتھ ہوئی عصمت دری سے متعلق ہے۔ بچی کی ملاقات اس جرائم پیشہ سے اسنیپ چیٹ ایپ پر ہوئی تھی۔ مقدمہ میں کہا گیا گیا ہے کہ اسنیپ چیٹ نے اپنی ایپ کے خطرناک فیچرز کو بند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کمپنی نے والدین کو ان خطرات کے بارے میں بھی آگاہ نہیں کیا جواس ایپ کے استعمال سے ہوسکتے ہیں۔

سال 2021  میں جب بچی 11 سال کی تھی تب اس نے اپنے والدین کو بتائے بغیر اسنیپ چیٹ استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایپ پر اکاؤنٹ کھولنے کے لیے کم از کم عمر 13 سال ہونی چاہئے لیکن بچی کو یاد نہیں کہ اس نے اپنی کیا عمر درج کی تھی۔ مقدمے کے مطابق بچوں کو معلوم ہے کہ وہ عمر کی اس شرط کو آسانی سے توڑ سکتے ہیں۔


تقریباً ایک سال بعد ایپ نے گیبریل جوئل ویلنٹائن ریوس نام کے ایک شخص کو بچی کا دوست بننے کا جھانسہ دیا۔ گیبریل ایک بالغ تھا اور اس بچی سے کوئی واقفیت نہیں تھی۔ ایپ نے بچی کو یہ نہیں بتایا کہ اجنبیوں سے رابطہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

دوستی ہونے کے بعد گیبریل نے بچی کو فحش تصاویر بھیجنا شروع کر دیں۔ بچی یہ سب نہیں چاہتی تھی، لیکن اسنیپ چیٹ کی بناوٹ ایسی تھی کہ اس کے لیے ان چیزوں سے بچنا ناممکن تھا۔ ایپ کی ’اسنیپ میپس‘ فیچر نے بچی کی معلومات کے بغیر اس کے گھر کا پتا گیبریل کو دے دیا۔ گیبریل نے بچی کو باور کرایا کہ وہ 17 سال کا ایک طالب علم ہے، جبکہ اس کی اصل عمر 25 سال تھی۔ اس نے بچی کو ملنے کے لیے بلایا اور اس کے ساتھ عصمت دری کی۔ گیبریل نے اعتراف جرم کر لیا ہے اور وہ اس وقت 18 سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔