پوتن نے ٹرمپ کے ’امن ایلچی‘ کو بتایا کہ یوکرین کے ساتھ صورتحال انتہائی مشکل

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اشارہ دیا ہے کہ یوکرین کی موجودہ صورتحال جنگ ختم نہیں کر سکتی۔روس اور یوکرین کے مابین کشیدگی کے درمیان، پوتن یوکرین کے اضافی علاقے کو ضم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اشارہ دیا ہے کہ یوکرین کی موجودہ صورتحال جنگ ختم نہیں کر سکتی۔ ماسکو میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کے دوران پوتن نے کہا کہ یوکرینی جنگ سے متعلق صورتحال بدستور مشکل ہے۔

پوتن نے صدر ٹرمپ کی چار سال سے زیادہ پرانی جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے مشکل حالات کے باوجود اپنی کوششیں کو جاری رکھا۔ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا کہ امریکہ نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد روس اور یوکرین جنگ کو ختم کرنا ہے، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔


ملاقات کے آغاز میں پوتن نے کہا کہ "اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ٹرمپ ایک مشکل صورتحال میں داخل ہو رہے ہیں، انہوں نے کسی سمجھوتے تک پہنچنے اور روس-یوکرین تنازع کے حل میں کردار ادا کرنے کی کوششوں کو جاری رکھا ۔ ہم ان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔"

قبل ازیں، پوتن کے خارجہ پالیسی کے مشیر، یوری اُشاکوف، اور ایلچی کرِل دیمتریو نے کریملن پہنچنے سے پہلے ہوائی اڈے پر وِٹ کوف اور کشنر کا استقبال کیا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ پوتن نے روسی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ ہفتے کی آدھی رات سے شروع ہونے والے تین دن تک کیف پر حملہ نہ کرے۔ یہ مدت یوکرین کے دارالحکومت میں امریکی سفیروں کے منصوبہ بند دورے کے ساتھ موافق ہے۔


یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے اتوار کو یوکرین کے دورے سے قبل وٹ کوف اور کشنر سے بات کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیف پیر تک ماسکو پر حملہ کرنے سے باز رہنے کے لیے بھی تیار ہے۔یہ مذاکرات روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بارے میں گہرے اختلافات کے درمیان ہو رہے ہیں۔

کریملن کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ پوتن یوکرین کے اضافی علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ماسکو کا خیال ہے کہ جب تک روس ڈونیٹسک کے باقی ماندہ علاقے کا کنٹرول حاصل نہیں کر لیتا اس وقت تک فرنٹ لائنز پر کسی تصفیے کا کوئی امکان نہیں ہے۔دریں اثنا، یوکرین نے ان علاقوں کو چھوڑنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے جن کا اس نے بڑی قیمت پر دفاع کیا ہے۔