لبنان میں پھر حالات ہو سکتے ہیں خراب، آئی ڈی ایف چیف نے کہا ’اسرائیلی فوج ہر محاذ پر جنگ کے لیے تیار‘
آئی ڈی ایف چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’غزہ میں آئی ڈی ایف نے حماس کے خلاف جنگ جیتی، ہم نے کسی کو نہیں بخشا۔‘‘
ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے، دوسری طرف اسرائیل نے لبنان سے متعلق فی الحال کچھ واضح نہیں کیا ہے۔ ایک بیان ضرور سامنے آیا ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ لبنان میں پھر حالات خراب ہو سکتے ہیں۔
دراصل آئی ڈی ایف چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے اپنی فوج کو کسی بھی حالت میں تیار رہنے کو کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اور لبنان میں نازک جنگ بندی کے درمیان فوج ہائی الرٹ پر ہے اور سبھی محاذ پر جنگ کے لیے تیار ہے۔ بدھ کے روز صدر کی رہائش پر اسرائیلی یومِ آزادی تقریب میں اعزاز سے نوازے گئے 120 بہترین فوجیوں کو خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’7 اکتوبر کی آگ کے بعد سے ہم لگاتار جنگ کے ذریعہ اپنی فوجی طاقت کو پھر سے بڑھانے کا کام کر رہے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر کا کہنا ہے کہ ’’غزہ میں آئی ڈی ایف حماس کے خلاف جنگ میں جیت حاصل کر چکا ہے، اور اس کمانڈ کو بنائے رکھا۔ ہم نے کسی کو نہیں بخشا۔‘‘ فوجیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اس وقت ہم شمالی طبقات کی سیکورٹی کو مضبوط کرنے کے لیے لبنان میں زوردار جنگ لڑ رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے ایران کے ساتھ جون 2025 اور حال ہی میں ہوئے 40 دنوں کی جنگ بندی کے بارے میں کہا کہ ’’ایران کے خلاف جنگ میں بھی ایسا ہی ہے۔ اس وقت آئی ڈی ایف پوری طرح الرٹ اور تیار ہے، سبھی سیکٹرس میں فوراً اور پوری طاقت سے جنگ کے لیے پُرجوش ہے۔‘‘
دوسری طرف آئی آر جی سی کے یومِ تاسیس پر ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف میجر جنرل امیر ہشامی نے بھی ایک پیغام جاری کیا ہے۔ اپنی فوج کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’8 سال کی پاکیزہ جنگ اور اسرائیلی و امریکی حکومت کی طرف سے تھوپی گئی جنگ میں آئی آر جی سی نے مضبوط کردار نبھایا۔ اس دوران ادارہ کی فوجوں کی صلاحیت، دانشمندی اور جہاد کا جذبہ سامنے آیا۔ اس کردار نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی قوت کو ثابت کر دیا ہے۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ آئی آر جی سی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی کمان میں اسلامی سرزمین کی علاقائی سالمیت کو ہر حال میں محفوظ رہنے کی گارنٹی دیتی ہے۔